.

اسرائیل میں ہیکروں سے بچاو کے لیے ادارہ قائم

غزہ جنگ کے دوران فوجی اور سول کمپیوٹر پر سائبر حملے ہوتے رہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فوجی اور سویلین شعبے میں بروئے کار آئی ٹی سسٹمز کو سائبر حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک ادارہ قائم کر لیا ہے۔

یہ اقدام مبینہ طور پر اسرائیل کے حریف ملک ایران کی جانب سے گاہے گاہے ہونے والے حالیہ سائبر حملوں کے بعد کیا گیا ہے۔ بنجمن نیتن یاہو کے بقول غزہ پر جنگ کے پچاس دنوں میں اسرائیلی فوج اور سول کے شعبوں میں بروئے کار کمپیوٹرسسٹمز غیر معمولی طور پر حملوں کی زد میں رہے۔

واضح رہے اسرائیل کی طرف سے غزہ پر مسلط کردہ پچاس روزہ جنگ جو آٹھ جولائی کو شروع ہوئی تھی۔ اسرائیلی بمباری مجموعی طور پر 2100 سے زائد فلسطینیوں کی شہادت کا باعث بنی تھی۔

یاہو نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے دوران سائبر ڈیفنس اتھارٹی کے دائرہ کار اور ذمہ داری کے بارے میں بتایا کہ یہ اتھارٹی اسرائیلی سرکاری سائبر سسٹم کو اس نوعیت کے حملوں سے بچانے کے علاوہ اسرائیلی شہریوں کو بھی سائبر حملوں سے محفوظ رکھنے کے کیے اقدامات کے ذمہ دار ہو گی۔

اس موقع پر اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا اسرائیلی کمپیوٹر عام طور پر دشمن ملک کے علاوہ دہشت گروپوں اور دوسرے ہیکروں کے حملوں کی زد میں رہتے ہیں۔ اس حوالے سے فوجی کمپیوٹر ہی نہیں معاشی مقاصد اور سائبر انڈسٹری میں بروئے کار کمپیوٹرز بھی سائبر حملوں کا شکار بنتے رہتے ہیں ۔

وزیر دفاع موشے یعلون نے وضاحت کی کہ جنگ کے دوران ہونے والے سائبر حملوں سے کوئی نقصان نہین ہوا ہے۔

خیال رہے اسرائیل نے سائبر ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی سے ترقی کی ہے۔ اس حوالے سے اسرائیل میں تقریبا 200 اسرائیلی کمپنیاں اور 20 ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے مراکز کام کر رہے ہیں۔