.

امریکا : داعش مخالف تعاون، ایرانی تجویز مسترد

ایران کا جوہری پروگرام بالکل الگ معاملہ ہے:ترجمان وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے ایرانی حکام کی جانب سے پیش کردہ اس تجویز کو مسترد کردیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ اگر امریکا جوہری پروگرام کے معاملے پر تہران کو لچک دکھائے تو وہ اس کے ساتھ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے خلاف جنگ میں تعاون کے لیے تیار ہے۔

سینیر ایرانی عہدے داروں نے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہے لیکن اس کے بدلے میں وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کے یورینیم افزودگی کے پروگرام میں مزید لچک کا مظاہرہ کیا جائے۔

جب اس ایرانی تجویز پر وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ایرنسٹ سے تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو انھوں نے اس کو مسترد کردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''عالمی طاقتوں کی جانب سے ایران کو اس کے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے پر آمادہ کرنا صدر براک اوباما کی داعش کے خلاف اتحاد کے قیام کے لیے کوششوں سے ایک بالکل مختلف معاملہ ہے''۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ''امریکا ایران سے داعش مخالف جنگ میں کسی تعاون کے بدلے میں اس کے جوہری پروگرام پر کوئی سودے بازی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے''۔