امریکا : داعش مخالف تعاون، ایرانی تجویز مسترد

ایران کا جوہری پروگرام بالکل الگ معاملہ ہے:ترجمان وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

امریکا نے ایرانی حکام کی جانب سے پیش کردہ اس تجویز کو مسترد کردیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ اگر امریکا جوہری پروگرام کے معاملے پر تہران کو لچک دکھائے تو وہ اس کے ساتھ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے خلاف جنگ میں تعاون کے لیے تیار ہے۔

سینیر ایرانی عہدے داروں نے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہے لیکن اس کے بدلے میں وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کے یورینیم افزودگی کے پروگرام میں مزید لچک کا مظاہرہ کیا جائے۔

جب اس ایرانی تجویز پر وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ایرنسٹ سے تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو انھوں نے اس کو مسترد کردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''عالمی طاقتوں کی جانب سے ایران کو اس کے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے پر آمادہ کرنا صدر براک اوباما کی داعش کے خلاف اتحاد کے قیام کے لیے کوششوں سے ایک بالکل مختلف معاملہ ہے''۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ''امریکا ایران سے داعش مخالف جنگ میں کسی تعاون کے بدلے میں اس کے جوہری پروگرام پر کوئی سودے بازی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں