.

جان کیری اور ظریف کی ون آن ون ملاقات

داعش مخالف حکمت عملی اور ایرانی جوہری پروگرام پر مشاورت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے عراق میں موجود داعش سے خطے اور دنیا کی سلامتی کو درپیش خطرات کے حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

امریکی سفارتی حکام کے مطابق دونوں اعلیٰ سفارتی رہنماوں کے درمیان یہ ملاقات ایک ہوٹل میں ایک گھنٹے سے زائد دیر تک جاری رہی۔

ملاقات میں ایرانی جوہری پروگرام پر جاری بات چیت کا جائزہ لینے کے علاوہ داعش کے بارے میں حالیہ پیش رفت اور چیلنج کی سنگینی بھی زیر بحث آئی۔

امریکی سفارتی حکام کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے داعش کے بارے میں حکمت عملی کے ان پہلووں پر بھی بات چیت کی جن پر عالمی برادری میں اتفاق کر لیا گیا ہے اور ان پہلووں پر بھی جن پر ابھی حکمت عملی بنانا باقی ہے۔

امریکی حکام کے بقول ایران کو بالعموم امریکا کا حریف سمجھا جاتا ہے تاہم امریکا چاہتا ہے کہ عراق اور شام میں عسکریت پسندوں کے خلاف اتحاد تشکیل پا جائے۔

دوسری جانب ایران سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ "داعش کے خلاف عالمی اتحاد میں شمولیت کی امریکی درخواست کو ایران مسترد کر چکا ہے۔"

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جان کیری اور جواد ظریف کی اس ون آن ون ملاقات کے بعد دونوں طرف کے نائب وزرائے خارجہ اپنی ٹیموں کے ساتھ ملے تھے۔

جان کیری نے اس حوالے سے اپنے روسی ہم منصب وزیر خارجہ سرگئی لاروف سے فون پر بات کی ہے۔ اس فون کال پر بھی داعش اور عراق و شام کے امور زیر بحث آئے ہیں۔

واضح رہے روس اور ایران دونوں شامی حکومت کی مرضی کے خلاف عالمی اتحادی کی شام میں بمباری کے حق میں نہیں ہیں اور دونوں ملک بشارالاسد رجیم کے اتحادی ہیں۔