.

داعش اور کرد ملیشیا 'تیل کے ذخائر' پر دست و گریباں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق میں ڈرامائی انداز میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑنے والی عسکریت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق وشام"داعش" کو اپنی نام نہاد 'خلافت' کی بقاء کے لیے جس مالی مدد کی ضرورت اس کا کچھ حصہ عراق اور شام میں تیل کے ذخائر سے پورا ہو ہا ہے۔ تیل کی دولت سے مالا مال علاقوں پر قبضے کے لیے داعش اور کرد جنگجو ایک دوسرے کے خلاف چومکھی لڑائی لڑ رہے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی" رائیٹرز" کے مطابق شام کے شمال مشرقی علاقے میں الشدادی تیل کے ذخائر پر داعش کا قبضہ ہے اور وہاں سے آئل کنٹینروں کے ذریعے روزانہ بھاری مقدار میں خام تیل فروخت کیا جاتا ہے جس کی تمام آمدن داعش کو جاتی ہے۔ الشدادی تیل کے ذخائر اس علاقے میں داعش کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں لیکن داعشی عناصر اور کرد ملیشیا کے درمیان تیل کے ذخائر پر قبضے کی جنگ بدستور جاری ہے۔

حال ہی میں داعش نے عراق سے لوٹے گئے بھاری اسلحے کی مدد سے شام میں کردوں کے زیر کنٹرول کئی دوسری بستیوں پر بھی اپنا تسلط مضبوط کر لیا ہے۔ شام کے دیر الزور شہر کے ایک بڑے حصے پر داعش کا قبضہ مضبوط ہونے کے بعد وہاں سے کرد ملیشیا کو شکست کا سامنا ہے جس کے بعد غالب امکان ہے کہ اگر کوئی بڑی مزاحمت نہ ہوئی تو داعش کے جنگجو اس شہرکے میں بھی تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

دمشق میں ایک آئل کمپنی سے وابستہ انجینیر نے بتایا کہ دیر الزور شہر میں تیل کے سیکڑوں چھوٹے چھوٹے کنوئیں موجود ہیں جن سے یومیہ ایک لاکھ 30 ہزار بیرل خام تیل نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں‌ نے کہا کہ سنہ 2011ء میں صدر بشار الاسد کے خلاف بغاوت سے قبل شام سے یومیہ تین لاکھ 80 ہزار بیرل تل نکالا جاتا تھا۔ تیل کی کل مقدار کا نصف صرف الحسکہ شہر سے حاصل کیا جاتا رہا ہے، لیکن سنہ 2012ء میں شامی فوج نے حسکہ کا محاذ چھوڑ کر حلب میں باغیوں کے خلاف آپریشن تیز کیا تو حسکہ پر کرد ملیشیا نے قبضہ کر لیا تھا۔ اب حسکہ کے بھی بیشتر اہم مقامات اور تیل کے ذخائر پر داعش قابض ہو چکی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ داعشی جنگجو میدان جنگ میں شدت پسندی کا مظاہرہ کر رہے ہیں مگر وہ زمین سے تیل نکالنے جیسے تکنیکی معاملات سے واقف نہیں ‌ہیں جس کے نتیجے میں انہیں مشکلات بھی پیش آ رہی ہیں اور تیل کے ذخائر سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا سکے ہیں۔ شام میں الشدادی، العمر، التنک اور ورد جیسے تیل کے اہم ذخائر ابھی تک غیر ملکی فرموں کے پاس ہیں اور غیر ملکی کمپنیاں ہی وہاں سے تیل نکال رہی ہیں۔ تاہم کئی دوسرے شہروں میں موجود رائل ڈچ، شیل، ٹوٹل اور پیٹرو کینیڈا جیسی فرمیں کام چھوڑ کر جا چکی ہیں۔

ایک غیر ملکی آئل کمپنی سے وابستہ شامی عہدیدار نے بتایا کہ شام میں تیل کے بڑے کنوئیں بند ہیں اور غیر ملکی آئل کمپنیاں کام چھوڑ کر جا چکی ہیں۔ان کے دفاتر اور سامان جنگجوؤں نے لوٹ لیے ہیں اور جنگجو ہی اپنے اپنے مخصوص علاقوں میں تیل نکالنے اور اسے فروخت کرنے میں مصروف ہیں۔