داعش کے جنگجو، کرد خواتین کے ہاتھوں ہلاکت سے خوفزدہ

عورتوں نے ہلاک کیا تو 72 حوریں نہیں ملیں گی: ٹیلیگراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ممتاز برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے ایک امریکی سیاستدان کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ عراقی کردوں کے خلاف لڑنے والے داعش کے عسکریت پسند اس خوف کا شکار ہیں کہ اگر ان کی ہلاکت کرد فورس سے وابستہ کسی خاتون فوجی کے ہاتھوں ہو گئی تو وہ جنت میں 72 حوروں سے محروم ہو جائیں گے۔

امریکی سیاستدان ایڈ رائس جو کہ یو ایس ہاوس انٹر نیشنل ریلیشنز کمیٹی کے سربراہ ہیں کہا ہے داعش کے عسکریت پسندوں کے نزدیک کسی خاتون کے ہاتھوں قتل ہونا پسندیدہ نہیں ہے۔

دوسری جانب کرد فورس کا کردار بڑھ رہا ہے اور اس میں شامل خواتین کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورت حال میں بہت سارے عسکریت پسند خوفزدہ نظر آتے ہیں کہ کردوں کے ساتھ لڑائی میں وہ کسی خاتون کی گولی کی زد میں نہ آ جائیں۔

ٹیلی گراف کے مطابق امریکی سیاستدان سے منسوب کردہ یہ بات پہلے نیو یارک نے بھی شائع کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کرد فوجی خواتین اس پر اپنے اطمینان کا اظہار کرتی ہیں کہ ان کی وجہ داعش کی پیش قدمی رک گئی ہے۔

واضح رہے اسلام پسند عسکریت پسندوں کا یہ عقیدہ ہے کہ شہید ہونے کی صورت میں انہیں جنت میں 72 حوریں ملیں گی۔ اس لیے داعش کے جنگجو کرد عورتوں سے ہلاک ہونے کا'' رسک'' لینے سے ڈرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں