.

قطر فٹ بال عالمی کپ 2022ء کا میزبان نہیں ہوگا:فیفا ایگزیکٹو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر اپنے ہاں موسم کی شدت کے پیش نظر 2022ء کے فٹ بال عالمی کپ کا میزبان نہیں ہو گا۔

یہ بات فٹ بال کی عالمی فیڈریشن تنظیم (فیفا) کی انتظامی کمیٹی کے جرمنی سے تعلق رکھنے والے رکن تھیو زوان زیگر نے سوموار کو ایک بیان میں کہی ہے۔انھوں نے اسپورٹ بیلڈ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے:''میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ 2022ء کا عالمی کپ قطر میں منعقد نہیں ہوگا''۔

جرمنی کی فٹ بال فیڈریشن کے سابق سربراہ کا ماہرین طب کے حوالے سے کہنا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں قطر میں فٹ بال عالمی کپ کے انعقاد کی صورت میں کسی ذمے داری کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ قطر میں موسم گرما میں فٹ بال عالمی کپ کا ٹورنا منٹ منعقد ہوگا اور اس خلیجی ریاست کا بالاصرار کہنا ہے کہ اسٹیڈیمز میں ماحول کو ٹھنڈا رکھنے والی ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لایا جارہا ہے اور تربیتی جگہوں پر بھی اس کا خاطر خواہ انتظام ہوگا لیکن اس کے باوجود کھلاڑیوں اور مقابلوں کو دیکھنے کے لیے آنے والے شائقین کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔

مسٹر زوان زیگر کا کہنا ہے کہ ''وہ شاید اسٹیڈیمز کو ٹھنڈا رکھنے کا تو بندوبست کر لیں لیکن عالمی کپ صرف وہیں منعقد نہیں ہوتا ہے۔دنیا بھر سے شائقین اس گرم موسم میں دوردراز کا سفر کرکے فٹ بال میچوں کو دیکھنے کے لیے آئیں گے اور کسی انسانی جان کے لیے خطرے کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد ہی پراسیکیوٹر کی تحقیقات شروع ہوجائیں گی اور یہ ایسا امر ہوگا جس کا فیفا کے ایگزیکٹو ارکان جواب نہیں دینا چاہیں گے''۔

فیفا قطر میں منعقد ہونے والے اس ٹورنا منٹ کو کسی یورپی ملک میں منتقل کرنے کا بھی جائزہ لے رہی ہے تاکہ اس خلیجی ریاست میں جون،جولائی کی شدید گرمی میں ٹورنا منٹ کے انعقاد سے پیدا ہونے والے مسائل سے بچا جا سکے۔قطر میں موسم گرما میں درجہ حرارت بالعموم چالیس ڈگری سے اوپر ہی ہوتا ہے۔

تاہم جون، جولائی کے بجائے موسم سرما میں ٹورنا منٹ کے انعقاد کی دنیا بھر کی مقامی لیگیں مخالفت کررہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان کے شیڈول بری طرح متاثر ہوں گے اور انھیں بھی اپنے اپنے ٹورنا منٹس کی تاریخوں میں ردوبدل کرنا پڑے گا۔

قطر کو موسمی شدت کے حوالے سے ہی تنقید کا سامنا نہیں ہے بلکہ 2010ء میں عالمی کپ کی میزبانی کے لیے اس کے انتخاب کے وقت کرپشن کے الزامات سامنے آئے تھے اور قطری فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ پر فیفا کے دوسرے ارکان کو خریدنے کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔اس کے علاوہ اس خلیجی ریاست میں غیر ملکی تارکین وطن سے سخت موسمی حالات میں کام لینے اور انھیں معاوضہ کم دینے کے الزامات بھی عاید کیے جاتے رہے ہیں اور قطری حکام کو انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔