.

جنگجوؤں کو لمبی جیل ہو گی: آسٹریلوی وزیر اعظم

مجوزہ قانون کے تحت جنگ زدہ علاقوں میں جانے والوں کو انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے مشرق وسطیٰ میں دولت اسلامی عراق وشام (داعش) میں شامل ہوکر لڑنے والے آسٹریلوی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ انھیں وطن واپسی پر گرفتار کرکے لمبی مدت کے لیے جیل میں ڈال دیا جائے گا۔

ٹونی ایبٹ کی حکومت بدھ کو پارلیمان میں داعش میں شامل ہونے والے آسٹریلوی جنگجوؤں کے خلاف مجوزہ قانون کو متعارف کرارہی ہے۔اس کے تحت مشرق وسطیٰ میں میدان ہائے جنگ سے لوٹنے والے آسٹریلوی شہریوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جاسکے گی۔

وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے منگل کو پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ''اگر آپ ایک دہشت گرد گروپ کے ساتھ مل کر لڑرہے ہیں اور ملک لوٹتے ہیں تو آپ کو گرفتار کر لیا جائے گا،آپ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی اور لمبے عرصے کے لیے جیل میں ڈال دیا جائے گا''۔

انھوں نے بتایا ہے کہ اس وقت قریباً ساٹھ آسٹریلوی شہری عراق اور شام میں دولت اسلامیہ (داعش) اور القاعدہ سے وابستہ شامی گروپ النصرۃ محاذ کی صفوں میں شامل ہوکر لڑرہے ہیں۔ان کے علاوہ سکیورٹی ایجنسیوں کی رپورٹس پر ساٹھ سے زیادہ ممکنہ جنگجوؤں کے پاسپورٹس منسوخ کیے گئے ہیں اور اس طرح انھیں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ ہونے سے روک دیا گیا۔

اب تک شام اور عراق سے متعدد جنگجو آسٹریلیا واپس آچکے ہیں۔سکیورٹی ایجنسیوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ یہ لوگ ملک کی داخلی سلامتی کے لیے خطرہ کے موجب بن سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا میں اس وقت نافذالعمل قانون کے تحت بیرون ملک دہشت گرد گروپوں میں شامل ہو کر لڑنے والوں کو زیادہ سے زیادہ بیس سال تک قید کی سزا دی جاسکتی ہے لیکن شواہد کی عدم دستیابی کی وجہ سے اب تک چند ایک مشتبہ افراد پر ہی فرد جرم عاید کی گئی ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت اگر کوئی آسٹریلوی شہری وزیر خارجہ کی جانب سے اعلان کردہ کسی ممنوعہ علاقے میں جائے گا تو وہ جرم کا مرتکب ہوگا۔

اٹارنی جنرل جارج برانڈیس کا کہنا ہے کہ کسی پورے ملک کو ممنوعہ قرار نہیں دیا جائے گا بلکہ اس کے خاص مقامات اور شہروں کو ممنوعہ قرار دیا جائے گا جیسے شام کا شہر الرقہ ہے جو داعش کا مضبوط گڑھ ہے۔ایسے علاقے میں جانے والے الزام علیہ آسٹریلوی کو عدالت میں یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ انسانی امدادی کے کام یا صحافتی فرائض کی بجا آوری کے لیے وہاں گیا تھا اور وہ دہشت گرد نہیں ہے۔

آسٹریلوی حکومت کو کسی الزام علیہ کو عدالت میں اپنی بے گناہی کا ثبوت دینے کے لیے ذمے دار ٹھہرانے پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے لیکن اس نے اس تنقید کو مسترد کردیا ہے۔اس وقت آسٹریلیا میں نافذ قانونی نظام کے تحت کسی ملزم کو مجرم ثابت کرنا استغاثہ کی ذمے داری ہے۔تاہم نئے قانون کے تحت مبینہ دہشت گردوں کو دی جانے والی تمام سزاؤں کی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔