.

حوثیوں اور یمنی حکومت میں معاہدہ، سعودی عرب کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے یمن میں اہل تشیع مسلک کے پیروکار حوثی مظاہرین اور حکومت کے درمیان صلح کے معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے اور فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں تاکہ ملک میں جاری افراتفری کو جلد ختم کرنے میں مدد مل سکے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیرصدارت کابینہ کے اجلاس میں یمن کی موجودہ صورت حال پر بھی غور کیا گیا۔

اجلاس کے بعد جاری ایک بیان میں پچھلے چند دنوں سے یمن میں جاری پرتشدد واقعات اور ان کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں پر گہرے دکھ کا اظہا کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب، یمن میں شراکت اقتدار کے فارمولے کے تحت تمام فریقین کی نمائندہ حکومت کے قیام کی حمایت کرتا ہے۔ بیان میں امید ظاہر کی گئی کہ برادر ملک یمن جلد موجودہ بحران سے نکل آئے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ نیویارک میں حال ہی میں ہونے والے خلیجی ممالک کی وزارت کونسل کے اجلاس میں بھی یمن میں امن وامان اور استحکام میں صنعاء کی مدد کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ امریکا میں جنرل اسمبلی کے اجلاس سے سے قبل جمع ہونے والے خلیجی وزرائے خارجہ نے یمنی صدر عبد ربہ منصور ھادی کی مکمل حمایت کا بھی اعلان کیا۔

خیال رہے کہ یمن میں پچھلے ایک ماہ سے شیعہ مسلک کے حوثی قبیلے نے حکومت کی تبدیلی کے مطالبے کے لیے دھرنا دے رکھا تھا۔ اس دوران مسلح حوثی جنگجوؤں اور پولیس کے درمیان کئی بار تصادم بھی ہوا تاہم اتوار کو حوثی مظاہرین نے صنعاء میں وزیر اعظم ہاؤس اور کئی دوسری سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ حوثیوں کے انتہائی اقدام کے باوجود حکومت نے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا اور آخر کار فریقین میں مفاہمتیی معاہدہ طے پا گیا ہے۔