.

حوثیوں کا حکومت سے معاہدہ، مگر غیر مسلح ہونے سے انکار

یمنی حکومت ہر صورت میں اپنی رٹ قائم کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایک ماہ سے جاری دھرنوں کے بعد اہل تشیع مسلک کے حوثی شدت پسندوں اور حکومت کے مابین ایک مفاہمتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ معاہدے کے بیشتر نکات پر فریقین نے اتفاق کیا ہے مگر حوثیوں نے اس میں شامل ایک اہم سیکیورٹی شق یعنی غیر مسلح ہونے کی شرط تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ معاہدے کی رو سے فریقین فوری جنگ بندی کریں گے۔ پولیس مظاہرین پر گولی نہیں چلائے گی۔ مظاہرین سرکاری عمارتیں اور دارالحکومت کو خالی کر دیں گے۔

معاہدے میں قرار دیا گیا ہے حوثیوں کے جائز مطالبات پر عمل درآمد کے لیے ایک کمیٹی قائم کی جائے گی جو بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالے گی۔ حوثی جنگجو واپس چلے جائیں گے اور تمام شہروں میں حکومتی رٹ قائم کی جائے گی۔ فریقین نے ملک کے کسی بھی شہر میں دوبارہ پرتشدد واقعات نہ ہونے کا بھی یقین دلایا ہے۔

جنوبی یمن کے ضلع عمران میں امن وامان کے قیام کے حوالے سے بھی نو منتخب وزیر اعظم ایک کمیشن قائم کریں گے جو پانچ دن میں اپنی تجاویز سے حکومت کو آگاہ کرے گا، جس کے بعد ان تجاویز کی روشنی میں عمران شہر میں حوثیوں کے مطالبات پر عمل درآمد کیا جائے گا تاہم ضلع کے تمام علاقوں پر فوج اور سیکیورٹی اداروں کی عمل داری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ادھر ضلع عمران کے مقامی حکومت کے نمائندوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقامی حکومت اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس کے زیر انتظام فوج اور سیکیورٹی ادارے امن وامان کے قیام میں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔ حوثیوں اور حکومت کے درمیان طے پائے معاہدے میں الجوف، مآرب اور دوسرے علاقوں میں بھی فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے۔