.

داعش میں یورپی جنگجوؤں کی تعداد میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اورعراق میں داعش اور دوسری تنظیموں میں شامل ہوکر لڑنے والے یورپی جنگجوؤں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ان کی تعداد دو ایک ماہ قبل دوہزار تھی جو اب بڑھ کر تین ہزار ہوچکی ہے۔

یورپی یونین کے انسداد دہشت گردی کے رابطہ کار گائلز ڈی کرچوف نے اے ایف پی کے ساتھ منگل کو انٹرویو میں کہا ہے کہ یورپی ممالک سے عراق اور شام میں جاکر لڑنے والوں کی تعداد میں اضافہ داعش کی جانب سے جون میں اپنے زیرقبضہ علاقوں میں خلافت کے قیام کے اعلان کے بعد ہوا ہے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ داعش میں شامل یورپی جنگجوؤں کی تعداد کتنی ہے تو انھوں نے بتایا کہ ''میرے جائزے کے مطابق ان کی تعداد قریباً تین ہزار ہے۔ان کے شام یا عراق جانے میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے اور خلافت کے اعلان کے بعد اس میں اضافہ ہوا ہے''۔

ان کے اس انٹرویو سے چندے قبل ہی امریکا اور اس کے عرب اتحادیوں نے شام میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف ایک نیا محاذ کھولا ہے اور اس کے ٹھکانوں پر زمین اور سمندر سے حملے کیے ہیں۔

گائلز ڈی کرچوف کا کہنا تھا کہ شام اور عراق جانے والے یورپی جنگجوؤں میں زیادہ تر فرانس ،برطانیہ ،جرمنی ،بیلجیئم ، نیدرلینڈز ،سویڈن اور ڈنمارک سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کے علاوہ اسپین ،اٹلی ،آئیرلینڈ اور آسٹریا سے بھی قابل ذکر تعداد میں نوجوان جارہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ آسٹریا ایسے ملک میں بھی اب غیرملکی جنگجو موجود ہیں اور میں اس سے پہلے اس سے آگاہ نہیں تھا۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ آیندہ چند ہفتوں کے دوران یورپی ممالک کے سکیورٹی سروس چیفس سے شام اور عراق میں لڑائی کے لیے جانے والوں کے اعدادوشمار حاصل کریں گے۔