.

شام میں فضائی حملے نہیں کریں گے:فرانس

بغداد حکومت کی درخواست پر عراق میں داعش پر بمباری کی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے وزیرخارجہ لوراں فابیئس نے شام میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ٹھکانوں پر فرانسیسی جنگی طیاروں کے حملوں کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔

فرانس پہلا ملک ہے جس کے جنگی طیاروں نے امریکا کے بعد عراق کے شمالی شہر موصل کے نزدیک داعش کے ٹھکانوں پر گذشتہ ہفتے بمباری کی تھی۔وزیرخارجہ لوراں فابیئس سے سوموار کو جب پوچھا گیا کہ فرانس نے ایک جانب تو عراق میں داعش پر فضائی حملے کیے ہیں لیکن شام میں وہ ایسا کرنے سے گریزاں ہے،اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ بغداد حکومت کی درخواست پر عراق میں فضائی حملے کیے گئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت ہاں کی تھی اور صدر فرانسو اولاند نے عراق میں فضائی حملوں کا حکم دیا تھا''۔انھوں نے فرانس کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ''وہ شامی صدر بشارالاسد کے خلاف اعتدال پسند حزب اختلاف کی حمایت جاری رکھے گا لیکن جو کچھ ہم عراق میں کررہے ہیں وہی کچھ شام میں دُہرانے یعنی فضائی حملوں کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں''۔

فرانسیسی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ایران داعش کے خلاف جنگ میں عالمی اتحاد میں شمولیت کے بغیر بھی اپنے جغرافیائی محل وقوع کی بنا پر عمومی کردار ادا کرسکتا ہے لیکن داعش کے خلاف جنگ اور ایران کے جوہری پروگرام کے سوال پر کوئی کنفیوژن نہیں پیدا کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایرانیوں نے ہم سے ان دونوں ایشوز کو گڈ مڈ کرنے کے لیے نہیں کہا ہے بلکہ ہم نے ان سے کہا ہے کہ یہ دوایشوز بالکل مختلف ہیں۔فرانسیسی وزیرخارجہ کے اس بیان سے قبل ایرانی حکام کی جانب سے یہ تجویز سامنے آئی تھی کہ اگر امریکا جوہری پروگرام کے معاملے پر تہران کو لچک دکھائے تو وہ اس کے ساتھ داعش کے خلاف جنگ میں تعاون کے لیے تیار ہے لیکن امریکا نے اس تجویز کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک بالکل الگ تھلگ معاملہ ہے۔