داعش کے''موت نیٹ ورک'' کو تباہ کرنا ہو گا: اوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر براک اوباما نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب میں دولتِ اسلامی عراق وشام (داعش) کے خلاف جنگ کو اپنا مرکزی موضوع بنایا ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ وہ داعش کے ''موت کے نیٹ ورک'' کے قلع قمع کے لیے بین الاقوامی اتحاد بنائیں گے۔

انھوں نے بدھ کو عالمی لیڈروں کے اجتماع سے خطاب میں کہا ہے کہ ''قاتل صرف ایک ہی زبان سمجھتے ہیں اور وہ طاقت کی زبان ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا موت کے اس نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے ایک وسیع تر اتحاد کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ مجھے آج دنیا سے صرف یہ کہنا ہے کہ وہ اس کوشش میں شامل ہو جائے''۔

صدر اوباما نے خبردار کیا ہے کہ ''جو لوگ داعش میں شامل ہو چکے ہیں، وہ میدانِ جنگ سے نکل آئیں''۔ انھوں نے اس خطاب کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کی صدارت کی ہے۔ اس میں دہشت گردی اور غیر ملکی جنگجوؤں سے متعلق خطرے پر بحث کی گئی ہے۔

سلامتی کونسل نے اس اجلاس میں ایک قرارداد کی منظوری دی ہے جس میں رکن ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غیر ملکی انتہا پسند جنگجوؤں کی دنیا بھر میں تنازعات والے علاقوں میں آمد ورفت روکنے کے لیے سخت قوانین کا نفاذ کریں۔

امریکا کی عراق اور شام میں داعش اور القاعدہ سے وابستہ دوسرے جنگجو گروپوں کے خلاف مسلط کردہ جنگ میں پانچ عرب ممالک بحرین، اردن ،سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر بھی شامل ہو چکے ہیں اور فرانس کے جنگی طیارے بھی عراق میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں لیکن امریکا نے اس جنگ کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظوری نہیں لی ہے۔

امریکی صدر نے جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر میں ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام اور اس پر ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے بھی اظہار خیال کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے معاملے پر کسی ڈیل تک پہنچنے کے لیے اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائے۔

انھوں نے کہا کہ ''ایران کی قیادت اور عوام کے لیے میرا سادہ پیغام یہ ہے کہ وہ اس موقع کو گنوا نہ دیں''۔ وہ قبل ازیں بھی متعدد مرتبہ ایران کو مخاطب کرکے یہ کَہ چکے ہیں کہ اس کے پاس مغرب کے ساتھ جوہری تنازعے کے خاتمے کے لیے یہ تاریخی موقع ہے اور اس کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ایران اور چھے بڑی طاقتوں نے نیویارک میں بھی مجوزہ جوہری معاہدے پر بات چیت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں