شام: جنگجو گروپوں کا اپنے اڈوں سے انخلاء

داعش اورالقاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ پر امریکی فضائی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام میں امریکا کی قیادت میں اتحادیوں کے تباہ کن فضائی حملوں کے بعد القاعدہ سے وابستہ باغی جنگجو گروپ النصرۃ محاذ اور ایک اسلامی گروپ احرارالشام نے اپنے پیروکاروں سے کہا ہے کہ وہ اڈے خالی کردیں۔

النصرۃ محاذ کی قیادت کے حکم کے بعد اس کے جنگجو شمال مغربی صوبے ادلب میں اپنے اڈے خالی کررہے ہیں۔لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف برسرپیکار باغی گروپ احرارالشام بھی اپنے عسکری مراکز اور ٹھکانے خالی کررہا ہے۔

درایں اثناء امریکی کی جنرل کمان نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ جنگی طیاروں نے شام اور عراق میں بدھ کو دولت اسلامی (داعش) کے ٹھکانوں پر مزید پانچ حملے کیے ہیں۔ان میں سے ایک حملہ شام کے شمال مغربی شہر قائم ،دو عراقی کردستان کے دارالحکومت اربیل سے جنوب مشرق اور دو حملے دارالحکومت بغداد سے مغرب میں واقع علاقے میں کیے گئے ہیں۔ان حملوں میں بمبار اور جنگی طیاروں نے حصہ لیا ہے۔

شام کے قومی مصالحت کے وزیر علی حیدر کا کہنا ہے کہ حملے درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں کیونکہ ان حملوں کے بارے میں اسد حکومت کو پیشگی مطلع کیا جارہا ہے اور ان میں شہری یا شامی فوج کے اہداف کو نشانہ نہیں بنایا جارہا ہے۔

قبل ازیں شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے اطلاع دی تھی کہ اتحادیوں نے کرد آبادی والے قصبے اور عراقی سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں حملے کیے تھے۔ آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ عراق کی سرحد کے ساتھ واقع قصبے البوکمال پر تیرہ فضائی حملے کیے گئے ہیں۔اس سے پہلے منگل کی رات امریکی طیاروں نے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع کرد آبادی والے قصبے کوبانی (عین العرب) میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔اس قصبے پر داعش نے گذشتہ ہفتے قبضہ کر لیا تھا۔داعش کے جنگجوؤں نے اس کے علاوہ علاقے میں چونسٹھ دیہات پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد ہزاروں کرد سرحد عبور کرکے ترکی چلے گئے تھے۔

آبزرویٹری کا مزید کہنا ہے کہ داعش کے ٹھکانوں پر حملوں کے لیے طیارے ترکی کی فضائی حدود کی جانب سے شام میں داخل ہوئے تھے اور انھوں نے کوبانی کے نزدیک داعش کی ایک سپلائی لائن پر بھی بمباری کی ہے لیکن ترکی نے اس اطلاع کی تردید کی ہے کہ اس کی فضائی حدود یا فضائی اڈوں کو شام میں داعش کے ٹھکانوں پر حملوں کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

امریکا اور اس کے اتحادیوں کے جنگی طیاروں کے فضائی حملوں میں شام میں داعش اور القاعدہ کے کم سے کم ایک سو بیس جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔ان کے علاوہ ان حملوں میں آٹھ عام شہری بھی مارے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں