صنعا میں حوثی باغیوں کا کنٹرول قریباً مکمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے دارالحکومت صنعا کے بیشتر حصوں پر بھاری ہتھیاروں سے مسلح حوثی شیعہ باغیوں نے قریباً مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔انھوں نے سرکاری دفاتر قبضہ کر لیا ہے اور وہ شہر کے داخلی اور خارجہ راستوں کو بھی بلاک کررہے ہیں۔

العربیہ کے نمائندے کے مطابق حوثی باغیوں نے صنعا کی مرکزی شاہراہوں پر چیک پوائنٹس بنا دیے ہیں اور وہ گشت کررہے ہیں۔درایں اثناء یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی نے صدارتی محل سے ایک تقریر میں کہا ہے کہ ''صنعا کو اس وقت سازش کا سامنا ہے اور اس سے خانہ جنگی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے''۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں کی میدان جنگ میں کامیابی یمن کے سیاسی منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاس ہے۔سُنی اسلام پسند ،آرمی جنرل اور قبائلی سرداروں کی حکومت پر گرفت کمزور پڑ رہی ہے اور شیعہ باغیوں کے ہاتھ میں کنٹرول آنے کے بعد اب مکمل خانہ جنگی چھڑ سکتی ہے۔

یمنی کے ایک سیاسی تجزیہ کار منصور حائل کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی کامیابیاں عراق اور شام میں دولت اسلامی (داعش) کی کامیابیوں کے مشابہ ہیں لیکن صورت حال بہت ہی خوف ناک ہے۔ریاست اداروں کے کنٹرول سے دستبردار ہوگئی ہے۔حوثی اور ان کے اتحادی ان کی جگہ لے رہے ہیں۔

حوثی باغیوں نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں ایک مفاہمتی سمجھوتے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت انھیں پہلی مرتبہ صدر اور کابینہ پر اثر انداز ہونے کے لیے وسیع اختیارات دے دیے گئے ہیں۔اس میں فوری جنگ بندی پر زوردیا گیا ہے اور ایک ماہ میں ٹیکنوکریٹس پر مشتمل نئی حکومت بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس سمجھوتے کے تحت صدر منصور ہادی حوثیوں اور جنوبی یمن کے علاحدگی پسندوں سے تعلق رکھنے والوں کو مشیر بنائیں گے۔تاہم حوثیوں نے اس سمجھوتے کے ایک ضمیمے پر دستخط نہیں کیے ہیں جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ جنگ بندی کریں ،صنعا اور شمالی شہروں سے نکل جائیں اور اپنے ہتھیاروں کو حکومت کے حوالے کردیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں