.

نیویارک: اسامہ کے داماد کو سزائے عمرقید

9/11حملوں کی سازش میں ملوث ہونے پر وفاقی عدالت کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے شہر نیویارک میں ایک وفاقی عدالت نے القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کے داماد اور اس تنظیم کے سابق ترجمان سلیمان ابوغیث کو امریکیوں کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر عمرقید کی سزا سنا دی ہے۔

اڑتالیس سالہ سلیمان ابوغیث سابق کویتی امام ہیں۔وہ القاعدہ کے پہلے نمایاں عہدے دار ہیں جن کو امریکا پر 11 ستمبر 2001ء کو طیارہ حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں مجرم قرار دے کر سزاسنائی گئی ہے۔

عدالت کے جج لیوس کپلان نے منگل کو سزا سناتے وقت کہا کہ ''ابوغیث نے نائن الیون حملوں پر کسی پچھتاوے کا اظہار نہیں کیا ہے۔وہ بدستور امریکی شہریوں کے لیے ایک خطرہ رہیں گے اور امریکیوں کو ہلاک کرنے کے لیے القاعدہ کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوسکتے ہیں''۔

امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے عدالت کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ''اب انصاف ہوچکا ہے اور ابو غیث اپنی باقی زندگی میں کبھی جیل کی کوٹھڑی سے باہر پاؤں نہیں رکھ سکے گا''۔

ابوغیث کے وکلاء نے سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے عدالت سے ملزم کو پندرہ سال قید کی سزا سنانے کی استدعا کی تھی اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ وہ پہلے ہی گیارہ سال تک ایران میں زیرحراست رہ چکے ہیں۔قبل ازیں سماعت کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ ان کا موکل امریکا پر حملوں کی سازش کا حصہ نہیں رہا تھا۔

انھوں نے جج کے فیصلے کے اعلان سے قبل ایک مترجم کے ذریعے عدالت میں عربی میں گفتگو کی اور کہا کہ ''وہ صرف اللہ کے فیصلے ہی کو قبول کریں گے''۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے نائن الیون حملوں کے فوری بعد اسامہ بن لادن سے افغانستان میں ایک غار میں ملاقات کی تھی اور ان سے اس حوالے سے گفتگو کی تھی،ان سے مل کر امریکیوں کے قتل کی سازش کی تھی اور دوسروں کو بھی اس سازش میں شریک کرنے کی کوشش کی تھی۔

سلیمان ابو غیث القاعدہ کے ترجمان کی حیثیت سے ویڈیوز جاری کیا کرتے تھے جن میں وہ نئے حملوں کی دھمکیاں دیا کرتے تھے۔انھوں نے اکتوبر 2001ء میں جاری کردہ ایک ویڈیو میں کہا تھا:''اب طیاروں کا طوفان تھمے گا نہیں''۔

مارچ میں ان کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران بارہ ارکان پر مشتمل جیوری کو 12 ستمبر 2001ء کو فلمائی گئی ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی تھی جس میں سلیمان اپنے خسر اسامہ بن لادن کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ القاعدہ کے دو اور لیڈر بھی تھے۔

جیوری نے تب فریقین کے دلائل سننے کے بعد القاعدہ کے مقتول سربراہ کے داماد پر تین الزامات میں فرد جرم عاید کی تھی۔اس میں کہا گیا تھا کہ انھوں نے امریکیوں کو ہلاک کرنے کی سازش کی تھی،القاعدہ کو مدد دینے کی سازش کی تھی اور اس کو مدد مہیا کی تھی۔

سلیمان ابوغیث کو گذشتہ سال اردن سے گرفتار کرکے نیویارک منتقل کیا گیا تھا۔ انھوں نے اپنے خلاف مقدمے کی کارروائی میں فعال انداز میں حصہ لیا تھا اور انھیں عربی مترجم کی خدمات مہیا کی گئی تھیں۔وہ اس کے ذریعے گواہوں کے بیانات اور دلائل سنتے رہے تھے۔

انھوں نے اپنے اوپر لگائے گئے اس الزام کی تردید کی تھی کہ وہ القاعدہ کے لیے جنگجو بھرتی کیا کرتے تھے۔انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کا کردار مذہبی نوعیت کا تھا۔وہ مبلغ تھے اور مسلمانوں کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے کہ وہ جارحین اور ظالموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

امریکی حکومت کی جانب سے ان کے خلاف جو گواہ پیش کیے گئے تھے،ان میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی ) کا ایک ایجنٹ بھی شامل تھا جس نے امریکا کے لیے فضائی سفر کے دوران ان کا دس گھنٹے تک انٹرویو کیا تھا۔اس کے علاوہ نیویارک کے علاقے بیفلو سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو پیش کیا گیا تھا۔اس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے گیارہ ستمبر کے حملوں سے کئی ماہ قبل انھیں افغانستان میں بولتے ہوئے سنا تھا۔

ابوغیث کے ایک وکیل اسٹینلے کوہن نے جیوری کے روبرو بیان میں کہا تھا کہ ان کے موکل کے خلاف ایسا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے جس سے حکومت کے اس دعوے کی تصدیق ہوسکے کہ وہ امریکا مخالف سازشوں سے آگاہ تھے۔وکیل استغاثہ نے عدالت میں ان کے خلاف نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے دونوں ٹاورز کی تباہی کی ویڈیو سمیت مختلف ویڈیوز دکھائی تھیں اوران کو ملزم کے خلاف سب سے بڑا ثبوت قراردیا تھا۔اس کے علاوہ جیوری کے روبرو ملزم کے بیان کو ان کے خلاف ایک گواہی کے طور پر بھی پیش کیا گیا تھا۔