.

ایرانی صدر اور برطانوی وزیراعظم میں 1979ء کے بعد ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور ایرانی صدر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر بات چیت کی ہے اور یہ دونوں ممالک کے لیڈروں کے درمیان 1979ء میں ایران میں انقلاب کے بعد پہلی ملاقات ہے۔

دونوں لیڈروں کے درمیان اقوام متحدہ میں برطانوی مشن کے دفتر میں ملاقات ہوئی ہے۔ برطانوی حکومت کے مطابق اس کا بڑا مقصد عراق میں نئی حکومت اور عراق اور شام میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف جنگ میں حمایت حاصل کرنا ہے۔ایرانی صدر حسن روحانی کی برطانوی وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کی تصویر جاری کی گئی ہے جس میں وہ خوشگوار موڈ میں نظر آرہے ہیں۔

امریکا اور اس کے عرب اتحادیوں نے منگل کو شام میں داعش کے خلاف فضائی حملے شروع کیے تھے جبکہ امریکا پہلے ہی اگست کے اوائل سے عراق میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملے کررہا ہے۔ایران ویسے تو مشرق وسطیٰ میں امریکا کی موجودگی کا مخالف ہے مگر وہ عراق میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف امریکی کارروائی کی حمایت کررہا ہے۔

صدر حسن روحانی نے سوموار کو ایک بیان میں امریکا کو عراق میں اپنے زمینی دستے نہ بھیجنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ خطے میں لوگ دہشت گردوں کے مقابلے میں خود اپنا دفاع کررہے ہیں اور ایران ان کی مدد کرے گا۔

امریکا نے داعش کے خلاف جنگ میں ایران کی مدد کے حصول کے لیے برطانیہ اور فرانس کو ذمے داری سونپی ہے۔تاہم برطانیہ خود عراق میں داعش کے خلاف امریکا کی کارروائی میں شریک نہیں ہے اور وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اس مقصد کے لیے پارلیمان کی منظوری چاہتے ہیں لیکن انھیں دارالعوام میں گذشتہ سال کی طرح شکست کا بھی خوف ہے۔انھیں شام میں فوجی کارروائی کی اجازت سے متعلق قرارداد پر شرمناک شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔