ایف بی آئی: داعشی قصاب کی شناخت کا دعویٰ

تین مغربی یرغمالیوں کے قاتل کا نام اور قومیت بتانے سے گریز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے نقاب پوش قصاب کی شناخت کا دعویٰ کیا ہے۔اس نقاب پوش سفاک قاتل کو دو امریکی صحافیوں اور ایک برطانوی امدادی رضاکار کا سرقلم کرنے کی ویڈیوز میں دیکھا گیا تھا۔

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے واشنگٹن میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران اس نقاب پوش قاتل کی شناخت کا دعویٰ کیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس کا یا ملک کا نام ظاہر نہیں کریں گے۔

جیمز کومی نے اس سوال کا جواب نہیں دیا ہے کہ آیا اس شناخت ہونے والے شخص ہی نے تینوں مغربی باشندوں کے سر قلم کیے تھے کیونکہ ویڈیوز میں اس کو ایک بڑا چھرا پکڑے ہوئے تو دکھایا گیا تھا لیکن ان کے سرقلم کرتے ہوئے نہیں دکھایا گیا تھا اور اس کی گفتگو اور مقتولین کے بیان کے بعد ان کی سربریدہ لاشیں دکھائی گئی ہیں۔

ایف بی آئی کے سربراہ نے کہا:''ہمیں یقین ہے کہ ہم نے اس قاتل کو شناخت کرلیا ہے لیکن میں آپ کو یہ نہیں بتاؤں گا کہ یہ کون ہے؟'' جیمز کومی نے ان رپورٹس کی بھی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے کہ ویڈیوز میں نمودار ہونے والا مشتبہ قاتل برطانوی شہری ہے۔البتہ انھوں نے کہا کہ ایف بی آئی کو داعش کی جانب سے جاری کردہ ایک اور فلم پر تشویش پر ہے کیونکہ اس میں نمودار ہونے والا شخص شمالی امریکا کے لب ولہجے میں انگریزی میں گفتگو کررہا ہے۔

داعش نے ''جنگ کے شعلے'' کے عنوان سے اسی ماہ ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں مغربی ناظرین کو مخاطب کیا گیا ہے۔اس میں نمودار ہونے والے نقاب پوش جنگجو نے فوجی وردی پہن رکھی ہے اور وہ انگریزی میں مخاطب ہے۔

جیمزکومی نے کہا:''اس میں کوئی شک نہیں کہ ویڈیو میں نمودار ہونے والا شخص شمالی امریکا کے لب ولہجے میں انگریزی بول رہا ہے۔اب ہماری زیادہ توجہ اسی پر مرکوز ہے''۔

اگست کے آخر میں واشنگٹن میں متعین برطانوی سفیر پیٹر ویسٹاماکوٹ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا ملک اس جنگجو کی شناخت کے قریب پہنچ چکا ہے۔اس وقت برطانوی میڈیا میں یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ انٹیلی جنس ادارے لندن سے تعلق رکھنے والے سابق گلوکار عبدالماجد عبدالباری کے ممکنہ طور پر جہادی جان ہونے کی تحقیقات کررہے ہیں۔

چوبیس سالہ عبدالباری لی جینی کے نام سے گاتا رہا تھا لیکن بعد میں گلوکاری سے دستبردار ہوکر انتہا پسند جنگجو بن گیا تھا اور شام آگیا تھا۔یو ایس اے ٹو ڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق اس مشتبہ نوجوان کی آوازوں کے موازنے سے شناخت ہوئی تھی اور اس کی ویڈیو والی آواز کا گانے کی آوازوں سے موازنہ کیا گیا تھا۔

عبدالباری پر جیمز فولی کے قتل کی ویڈیو سامنے آنے سے بھی قبل توجہ مرکوز کی گئی تھی۔اس نے رواں سال کے آغاز میں ٹویٹر پر ایک تصویر پوسٹ کی تھی جس میں اس نے ایک کٹا ہوا سر پکڑ رکھا تھا۔ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ایف بی آئی نے داعش کے جس جنگجو کو شناخت کرنے کا دعویٰ کیا ہے ،وہ یہی عبدالباری ہے یا کوئی اور ہے۔

داعش میں شامل اس برطانوی جنگجو کی گذشتہ ڈیڑھ ایک ماہ کے دوران دو امریکی صحافیوں جیمز فولی اور اسٹیون سوٹلوف اور ایک برطانوی امدادی کارکن ڈیوڈ ہینز کے سرقلم کرنے کی تین ویڈیوز انٹرنیٹ پر جاری کی گئی ہیں۔ان ویڈیوز کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ الرقہ کے نزدیک واقع صحرا میں ایک ہی جگہ فلمائی گئی تھیں۔

برطانوی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلی دونوں ویڈیوز میں نمودار ہونے والے جنگجو کی آواز ایک جیسی تھی۔ تاہم اس کے مکمل نقاب پوش ہونے کی وجہ سے اس کے نقوش کا درست اندازہ لگانا مشکل تھا۔اسی لیے وہ ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں کہ یہ کون شخص ہے؟

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں