ترکی داعش مخالف جنگ میں حصہ لینے کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی پراپنے مغربی اتحادیوں کی جانب سے شام اور عراق میں سخت گیر جنگجوگروپ داعش کے خلاف کارروائی میں شریک ہونے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے اور اب ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کسی بھی اقدام کو تیار ہے۔

احمد داؤد اوغلو نے انقرہ میں جمعہ کو اپنی حکمراں جماعت عاق کے اجلاس میں کہا ہے کہ ''اگر کسی فوجی کارروائی سے خطے میں امن اور استحکام قائم ہوسکتا ہے تو ہم اس کی حمایت کریں گے اور ہم اپنی قومی سلامتی کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے''۔

تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ اقدامات کیا ہوسکتے ہیں۔ترکی پر امریکا کی جانب سے سخت دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ عراق اور شام کے ایک بڑے حصے پر قابض داعش کے جنگجوؤں کے خلاف اتحاد میں شامل ہو لیکن احمد داؤد اوغلو نے یہ واضح کیا ہے کہ ترکی مشرق وسطیٰ میں ایسی کسی بھی کارروائی کی مخالفت کرے گا جس کا مقصد خطے میں تیل اور توانائی کے دوسرے ذرائع پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران شام کے کرد آبادی والے قصبے عین العرب اور اس کے نواحی دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔یہ قصبہ ترکی کی سرحد سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔وزیراعظم داؤداوغلو کا کہنا ہے کہ علاقے سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار مزید شامی مہاجرین اپنا گھر بار چھوڑ کر ترکی کے سرحدی علاقے میں آگئے ہیں۔

ترک قیادت نے اس سے پہلے عراق کے شمالی شہر موصل پر داعش کے قبضے اور اپنے کم سے کم پچاس شہریوں کو یرغمال بنائے جانے کی وجہ سے محتاط طرز عمل اختیار کررکھا تھا لیکن گذشتہ ہفتے ان کی محفوظ بازیابی اور ترکی واپسی کے بعد ان کے لب ولہجے میں بھی تبدیلی آئی ہے۔

صدر رجب طیب ایردوآن نے منگل کو ایک بیان میں شام میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف امریکا کی قیادت میں فضائی حملوں کا خیرمقدم کیا تھا اور کہا تھا کہ ترکی اس فضائی مہم کے لیے فوجی یا لاجسٹیکل مدد مہیا کرسکتا ہے۔تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ترکی کیا مدد مہیا کرے گا۔

اطلاعات کے مطابق امریکا ترکی پر یہ دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اس کی افواج کو شمالی شام میں داعش کے ٹھکانوں پر حملوں کے لیے اپنے انچرلیک ہوائی اڈے کو استعمال کرنے کی اجازت دے لیکن ترکی نے ابھی ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔آیندہ ہفتے پارلیمان کے اجلاس میں یہ معاملہ زیر غور آئے گا اور وہی حکومت کو عراق اور شام میں جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی اجازت دینے کی مجاز ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن اس وقت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے سلسلے میں امریکا میں ہیں۔انھوں نے جمعرات کو امریکا کے نائب صدر جو بائِیڈن سے دو گھنٹے تک ملاقات کی تھی اور ان سے داعش مخالف جنگ اور دوطرفہ تعلقات سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں