یمنی باغی 'لڑائی' جیت کر اخلاقی محاذ ہار گئے

حوثی باغیوں نے صنعاء میں لوٹ مار کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن میں حکومت اور ایرانی حمایت یافتہ شیعہ مسلک حوثی شدت پسندوں کی جانب سے دارالحکومت صنعاء کو یرغمال بنانے اور شہر میں لوٹ مار، توڑ پھوڑ، وزرا اور ارکان اسمبلی کی رہائش گاہوں اور دفاتر پر حملوں کے بعد شدید عوامی ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ حوثیوں کی حمایت میں لکھنے والے اخبارات نے بھی مسلح افراد کی غنڈہ گردی کی شدید مذمت کرتے اسے نام نہاد 'انقلابیوں' کی اخلاقی شکست سے تعبیر کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حکومت اور حوثی مظاہرین کے درمیان مفاہمتی معاہدے کے باوجود شیعہ حوثیوں کے مسلح اہلکاروں نے نہایت ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دارالحکومت میں سرکاری اور نجی املاک کی توڑ پھوڑ کی۔ شورش کے دوران کئی بنک اور دکانیں بھی لوٹ لی گئیں۔ لوٹ مار اور غنڈہ گردی کی وارداتوں کے باعث مقامی میڈیا حوثیوں پر سخت برہم ہے۔ اخبارات حوثیوں کے سیاہ کرتوتوں کی وجہ سے ستمبر کو ’’ماہ سیاہ‘‘ قرار دے رہے ہیں۔

حوثی نواز اخبار مالکان کی آنکھیں بھی کھلنا شروع ہو گئی ہیں۔ یمن کے جو نشریاتی اور ابلاغی ادارے حوثیوں کے مطالبات کی پر زور حمایت کر رہے تھے اب وہ بھی سیاہ کارناموں کی وجہ سے حوثیوں پر تنقید کرتے ہوئے ان کی اخلاقی شکست قرار دے رہے ہیں کیونکہ مفاہمتی معاہدہ ہونے کے باوجود حوثی شدت پسندوں نے دارالحکومت کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

ایک مقامی صحافی اور تجزیہ نگار جمال الاصبحی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں نے صرف دارالحکومت صنعاء میں توڑ پھوڑ نہیں کی بلکہ وہ جنوبی یمن کے شہر عمران، الصعدہ اور وادی الجوف میں بھی یہی کھیل کھیلتے رہے ہیں۔ معاہدے کے باوجود مسلح حوثیوں کا سرکاری تنصیبات پر چڑھ دوڑنا ریاست کے خلاف باغیانہ سازش ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حوثی پرامن نہیں رہنا چاہتے بلکہ بیرونی اشاروں پر چلتے ہوئے یمن میں نظام حکومت کو درہم برہم کرنے کی سازش کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ یمن میں حوثی شدت پسندوں نے اگست کے آخری ہفتے میں حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے دارلحکومت صنعاء میں دھرنا دیا۔ حوثی ہر آنے والے دن اپنے مطالبات میں اضافہ کرتے چلے گئے۔ جس کے نتیجے میں حکومت نے پولیس کی مدد سے ان کے دھرنے ختم کرنے کی کوشش کی تاہم اقوام متحدہ کی مداخلت کے بعد حکومت اور حوثیوں میں مذاکرات شروع ہوئے۔ مذاکرات میں صدر عبد ربہ منصور ھادی نے وزیر اعظم کو سبکدوش کرنے اور پٹرولیم مصنوعات کی اضافی قیمت واپس لینے کے مطالبات تسلیم کر لیے تھے۔ اس کے بدلے حوثیوں نے دھرنے ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا لیکن حکومت سے معاہدہ ہونے کے باوجود حوثیوں کے مسلح جتھوں نے دارالحکومت کی اہم عمارتوں پر قبضہ کر لیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں