برطانوی فضائیہ کوعراق میں داعش پر حملوں کی اجازت

داعش سے برطانیہ کو براہ راست خطرہ ہے:ڈیوڈ کیمرون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

برطانوی پارلیمان (دارالعوام) نے کثرت رائے سے عراق میں دولت اسلامی (داعش) کے خلاف فضائی حملوں کی منظوری دے دی ہے جبکہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ اس جنگ میں کئی سال بھی لگ سکتے ہیں اور یہ جنگجو گروپ برطانیہ کے لیے براہ راست خطرے کا موجب ہے۔

دارالعوام میں جمعہ کو حکومت کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کے حق میں 524 اراکین نے ووٹ دیا جبکہ 43 نے اس کی مخالفت کی ہے۔ دارالعوام میں رائے شماری سے قبل ڈیوڈ کیمرون نے تقریر کرتے ہوئے کہا سوال کیا کہ ''کیا یہ (داعش) برطانوی عوام کے لیے خطرہ ہے'' اورپھر خود ہی اس کا جواب دیا:''ہاں خطرہ ہے''۔ان کا کہناہے کہ داعش کے خلاف کارروائی کو مؤثر ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

ڈیوڈ کیمرون نے ارکان پارلیمان پر واضح کیا کہ ''داعش سے دنیا میں کہیں دوردراز خطرہ لاحق نہیں ہے۔اگر ہم اس سے پہلوتہی کرتے ہیں تو پھر ہمیں بحر متوسطہ کے کناروں اور نیٹو کے ایک رکن ملک کی سرحد پر ایک دہشت گرد خلافت کا سامنا ہوگا۔وہ ہمارے ملک اور عوام پر حملوں کی دھمکی دے چکے ہیں''۔

دارالعوام میں برطانیہ کی شاہی فضائیہ کو عراق میں داعش کے خلاف فضائی حملوں کی اجازت دینے سے متعلق حکومتی قرارداد کی منظوری یقینی تھی۔اب توقع ہے کہ برطانوی جنگی طیارے بھی اتوار سے امریکا کی قیادت میں اتحادیوں کی فضائیہ کے ساتھ مل جائیں گے اور عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر حملے شروع کردیں گے۔

لیکن وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی کنزرویٹو پارٹی کے بعض ارکان کا خِیال ہے کہ داعش کی بیخ کنی کے لیے عراق ہی میں فضائی حملے کافی نہیں ہیں بلکہ فضائیہ کو شام میں بھی داعش کے ٹھکانوں پر حملوں کی اجازت دی جانی چاہیے لیکن خود کیمرون شام میں کارروائی کے حق میں نہیں ہیں۔

دوسری جانب حزب اختلاف لیبر پارٹی کے بعض ارکان داعش کے خلاف فوجی کارروائی کے نتائج کے حوالے سے کوئی زیادہ پُرامید نہیں ہیں۔البتہ پارٹی کے لیڈر ایڈ ملی بینڈ نے عراق میں داعش کے خلاف حملوں کے لیے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی حمایت کی ہے۔

درایں اثناء برطانوی پولیس نے جمعہ کو دو مزید مشتبہ افراد کو دہشت گردی کی معاونت کے الزام میں گرفتار کرنے کی اطلاع دی ہے۔گذشتہ روز پولیس نے ملک کے مختلف علاقوں میں ایک مبلغ سمیت نو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔

پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان دونوں افراد کو علی الصباح موٹر وے ایم 6 پر ایک گاڑی پر سفر کے دوران گرفتار کیا گیا ہے۔یہ موٹروے وسطی اور شمالی برطانیہ کے درمیان واقع ہے۔ان میں سے ایک کی عمر 33 سال ہے اور اس کو دہشت گردی کی حوصلہ افزائی اور ایک کالعدم تنظیم سے تعلق کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔دوسرے گرفتار ملزم کی عمر 42 سال ہے اور اس کو ایک مجرم کی معاونت کے الزام میں پکڑا گیا ہے۔

پولیس کا مزید کہنا ہے کہ ان افراد کو اسلام پسندوں کے خلاف دہشت گردی کی سازش کے الزام میں جاری تحقیقات کے ضمن میں پکڑا گیا ہے اور ان سے فوری طور پر کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔

جمعرات کو گرفتار کیے گئے نو افراد کا تعلق ایک انتہاپسند گروپ المہاجرون سے بتایا جاتا ہے۔اس کے ایک شریک بانی انجم چودھری کو پہلے ہی اسلام اور مشرق وسطیٰ کے حوالے سے متنازعہ خیالات اور بیانات کے الزام میں گرفتار کیا جاچکا ہے۔47 سالہ انجم چودھری ایک سابق وکیل ہیں اور وہ برطانوی شہر ووٹن باسیٹ میں مغرب مخالف مظاہروں کی قیادت بھی کرتے رہے ہیں۔المہاجرون کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا مقصد برطانوی حکومت کا دھڑن تختہ کرنا ہے اور وہ ایک عالمی اسلامی خلافت کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں