داعش کا مردہ جنگجو عراق میں زندہ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

کینیڈا سے تعلق رکھنے والا ایک صومالی نژاد جنگجو، جس کے بارے میں پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) میں شامل ہونے کے بعد مارا گیا تھا،زندہ ہے اور وہ حال ہی میں ایک ویڈیو میں نمودار ہوا ہے۔

فرح محمد شیردون نے اسی ہفتے وائس نیوز کو ایک انٹرویو دیا ہے۔اس نے کہا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے داعش میں شامل ہوا تھا اور اس جنگجو تنظیم میں مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے دس ہزار سے زیادہ جنگجو شامل ہیں۔

شیردون اس وقت عراق کے شمالی شہر موصل میں کہیں موجود ہے اور اس نے اسکائپ کے ذریعے میڈیا ادارے وائس نیوز کو انٹرویو دیا ہے۔اس نے کہا کہ ''کوئی مجھ سے ایک لفظ بھی نہیں بولتا تھا۔میں اخبار پڑھتا تھا اور میں بآسانی قرآن مجید کی تلاوت کرتا تھا''۔

سی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اگست میں سوشل میڈیا پر ایسی تحریریں پوسٹ کی گئی تھیں جن میں بتایا گیا تھا کہ شیردون عراق میں مارا گیا ہے لیکن وائس نیوز نے اس کا سراغ لگا لیا ہے اور اس کا انٹرویو کیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ زندہ ہے۔

اس نے داعش کی خواہشات اور اپنے زیرنگیں علاقے کو بڑھانے کے حوالے سے منصوبے پر بھی گفتگو کی ہے اور بتایا ہے کہ وہ نیویارک پر حملے کرنا چاہتی ہے اور وائٹ ہاؤس پر اپنا جھنڈا لہرانا چاہتی ہے۔اس مقصد کے لیے بہت سے مغربی بھائی آگے بڑھ رہے ہیں۔

شیردون کا عرفی نام ابو اسامہ صومالی ہے۔اس کی عمر بیس پچیس سال کے درمیان ہے۔ کینیڈین اخبار ہفگنٹن پوسٹ کے مطابق وہ کالگری سے تعلق رکھتا ہے۔وہ ایک سابق صومالی وزیراعظم کا بھتیجا ہے اور جنوبی البرٹا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں زیر تعلیم رہا تھا۔

وہ جون میں پہلی مرتبہ ایک ویڈیو کے ذریعے منظرعام پر آیا تھا۔اس نے داعش کے جنگجوؤں کے نرغے میں اپنا پاسپورٹ پھاڑ دیا تھا اور کینیڈا کو بھی دھمکی دی تھی۔

کینیڈین حکام کے مطابق اس وقت قریباً ایک سو تیس افراد ان کے ملک کے پاسپورٹ پر بیرون ملک دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے گئے ہیں اور ان میں سے بعض داعش میں بھی شامل ہیں اور عراق اور شام میں لڑرہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں