.

امریکہ میں گلا کاٹنے والا کون، ایف بی آئی کی تحقیقات

تیز دھار آلے کے وار سے ایک خاتون ہلاک، دوسری زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک امریکی فوڈ پراسیسنگ کمپنی کی جانب سے نوکری سے برخاست کئے جانے والے ایک شخص کو اس وقت گولی مار کر زخمی کردیا گیا جب اس نے ایک خاتون کا سر تن سے جدا کرنے کے بعد دوسری خاتون پر حملہ کرکے اسے زخمی کردیا۔

امریکی پولیس کے سارجنٹ جیریمی لیوس نے کہا "پولیس اس امر کا انتظار کر رہی ہے کہ 30 سالہ شخص ہسپتال میں ہوش سنبھال لے تاکہ اس کو گرفتار کر لیا جائے۔"

پولیس نے اس معاملے کو مزید پیشرفت کے لئے ایف بی آئی سے بھی مدد مانگ لی ہے کیونکہ فوڈ کمپنی کے ملازمین نے یہ بات بتائی ہے کہ حملہ آور مختلف لوگوں کو مبینہ طور پر اسلام کی دعوت دے رہا تھا۔

امریکی خبر رساں ادارے نے اس شخص پر فرد جرم عائد نہ ہونے کی وجہ سے نام ظاہر کیے بغیر رپورٹ کیا ہے کہ 54 سالہ کولین ہفور کو تیز دھار آلہ مارا جس کے نتیجے میں اس کا سر تن سے جدا ہوگیا۔

اسی دوران مبینہ قاتل نے 43 سالہ ٹریسی جانسن پر بھی متعدد بار تیز دھار آلے سے وار کیا اور اس کے بعد مارک وان نامی ریزور ڈپٹی شیرف اور کمپنی کے چیف آپریٹنگ آفیسر نے اسے گولی مار کر زخمی کر دیا۔

پولیس کے ذمہ دار لیوس نے کہا "اگر اس شخص کو نہ روکا جاتا تو معاملات مزید بگڑ سکتے تھے۔"

پولیس افسر کے مطابق "ایف بی آئی سے اس مشکوک شخص کا پس منظر جاننے کے ساتھ ساتھ اس کے بارے میں تحقیقات میں مدد مانگی ہے تاکہ ان حملوں کی نوعیت کا اندازہ کیا جاسکے۔"

فائرنگ سے زخمی ہونے والے حملہ آور اور خنجر سے زخمی ہونے والی خاتون ٹریسی جانسن دونوں کو ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔

اوکلاہوما کے محکمہ اصلاحات کے ریکارڈ کے مطابق مشتبہ شخص کے جسم پر مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے 'ٹیٹّو' بنے ہوئے ہیں۔ ان ٹیٹوز میں حضرت عیسی علیہ السلام اور عربی میں اسلام علیکم کے ٹیٹو بھی موجود ہیں۔