.

امریکی پولیس کو طمانچہ 15 لاکھ ڈالر میں پڑ گیا

لاس اینجلس پولیس اور متاثرہ خاتون میں راضی نامہ طے پا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پولیس کی جانب سے شہریوں کی سر عام پٹائی کے واقعات تو روزمرہ کی بنیاد پر سامنے آتے رہتے ہیں مگر امریکی ریاست لاس اینجلس کے ایک پولیس اہلکار کی جانب سےایک سیاہ فام خاتون کو سر عام طمانچہ مارنے کے عوض اب پولیس کو ہرجانے کے طور پر 15 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم ادا کرنا پڑی ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’’اے ایف پی‘‘ کے مطابق خاتون کو طمانچہ مارنے کا واقعہ کچھ ہی عرصہ قبل پیش آیا تھا۔ اتفاق سے تشدد کےاس واقعے کی ایک راہ گیر نے اپنے موبائل کیمرے میں فوٹیج بنالی تھی جو متاثرہ خاتون کی وکیل نے بعد ازاں بہ طور ثبوت عدالت میں پیش کی۔

رپورٹ کے مطابق لاس اینجلس پولیس کا کہنا ہے کہ جولائی میں 51 سالہ میرلین بینوک نامی خاتون کو تھپڑ مارنے والے پولیس افسر کو برطرف کر دیا گیا ہے اور پولیس نے متاثرہ خاتون کے ساتھ پندرہ لاکھ ڈالر ہرجانے پر راضی نامہ کر لیا ہے۔ ہرجانے کے فیصلے کے بعد خاتون عدالت میں جاری پولیس کے خلاف مقدمہ ختم کر دے گی۔

خیال رہے کہ لاس اینجلس گورے پولیس اہلکار ماضی میں بھی سیاہ فام اقلیت کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنے کے الزام میں بدنام ہو چکے ہیں لیکن ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ پولیس کو ایک تھپڑ کے بدلے میں ایک سیاہ فام خاتون سے معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ اسے خطیر رقم بہ طور ہرجانہ ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

متاثرہ خاتون کی وکیل کاری ھاربر نے ٹیوٹر پر اپنے ایک مختصر بیان میں بتایا کہ اس کی موکلہ پولیس کے ساتھ طے پائے رضا مندی معاہدے سے مطمئن ہے اور پولیس سے حاصل ہونے والی رقم اس کی بقیہ زندگی پرسکون گذرے گی۔ خاتون اس بات سے خوش ہے کہ اسے تھپڑ مارنے والے پولیس اہلکار کو بدترین انجام سے دوچار ہونا پڑا ہے۔

یاد رہے کہ ایک مقامی ٹیسی ڈرائیور نے پولیس اہلکار ڈینیل انڈرو کے سیاہ فام خاتون پرسر عام مبینہ تشدد کی ایک ویڈیو بنائی تھی جس میں دکھایا گیا تھا کہ ڈینئل ایک مصروف شاہراہ کے کنارے بیٹھی خاتون کو مسلسل طمانچے مار رہا ہے۔ یہ ویڈیو پولیس اہلکار کے لیے رسوائی کا موجب بنی ہے، جس کی بنیاد پر لاس اینجلس کی عدالت نے پولیس کو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔