.

امریکی حملوں سے داعش پر کاری ضرب

جنگجو گروپ کے انفرااسٹرکچر کو تباہ کردیا گیا:جنرل ڈیمپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے چئیرمین جائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی نے کہا ہے کہ عراق اور شام میں دولت اسلامی (داعش) کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں سے اس گروپ کے کمانڈ اور کنٹرول انفرااسٹرکچر اور لاجسٹیکل صلاحیتوں کو تباہ کردیا گیا ہے۔

انھوں نے جمعہ کو پینٹاگان میں صحافیوں سے گفتگو میں اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ ''داعش کے خلاف مہم مستقل اور پائیدار انداز میں جاری رکھی جائے گی''۔امریکا اور اس کے اتحادیوں کے جنگی طیاروں نے شام میں مسلسل دوسرے روز داعش کے زیر قبضہ تیل کی تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق جنگی طیاروں نے شام کے مشرقی صوبے دیرالزور اور شمال مشرقی صوبے الحسکہ میں تیل کی تنصیبات پر فضائی حملے کیے ہیں۔ان دونوں مقامات پر گذشتہ روز بھی اتحادی طیاروں نے بمباری کی تھی۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ فوری طور پر یہ پتا نہیں چل سکا کہ الحسکہ میں اتحادی طیاروں نے کس ہدف کو نشانہ بنایا ہے اور نہ ان حملوں میں ہلاکتوں کے بارے میں پتا چل سکا ہے۔

دیرالزور سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن لیث الدیری نے ایک غیرملکی خبررساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ ''صوبہ دیرالزور میں داعش نے اپنے ٹھکانوں پر بمباری کے بعد تیل کے کنووں سے تیل نکالنے کا کام بند کردیا ہے''۔

اس کارکن نے انٹرنیٹ کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ''پہلے لوگوں کو چار چار دن تیل کے لیے انتظار کرنا پڑتا تھا کیونکہ تیل کی بہت زیادہ مانگ تھی لیکن اب کوئی گاہک نہیں ،کوئی تاجر یا صارف تیل کے کنووں پر نہیں جارہا ہے کیونکہ انھیں امریکا کی قیادت میں اتحادیوں کے فضائی حملوں کا نشانہ بننے کا خدشہ ہے۔

دیرالزور میں شام کے تیل کے چھے بڑے کنویں ہیں اور ایک گیس فیلڈ بھی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ داعش تیل کی فروخت سے روزانہ دس لاکھ سے تیس لاکھ ڈالرز تک کما رہی تھی۔واضح رہے کہ داعش نے صوبہ دیرالزور کے بیشتر علاقوں پر کنٹرول حاصل کرکے تیل کے کنوؤں پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔اب جنرل ڈیمپسی کا کہنا ہے کہ ان کنوؤں پردوبارہ کنٹرول کے لیے شامی حزب اختلاف کے بارہ سے پندرہ ہزار مسلح جنگجو درکار ہوں گے اور صرف پانچ سات ہزار لوگوں سے یہ کام نہیں ہوگا۔