.

عراق، لبنان اور فلسطین میں ہمارے فوجی موجود ہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی مسلح افواج کے ڈپٹی چیف جنرل غلام علی رشید نے دعویٰ کیا ہے کہ عراق، فلسطین اور لبنان میں ان کے فوجی افسر موجود ہیں جو وہاں پر سیکیورٹی فورسز اور تہران نواز مزاحمتی گروپوں کی مشاورتی معاونت کر رہےہیں۔

نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی"فارس" کے مطابق جنرل غلام علی رشید نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’ایران کی عسکری قیادت عراقی فوج، لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور فلسطینی مزاحمتی گروپوں کی مشاورتی معاونت کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے تینوں ملکوں میں ایران کے کئی سینیر فوجی افسر موجود ہیں‘‘۔

ایرانی ڈپٹی آرمی چیف نے ان خیالات کا اظہار سنہ 1980 سے 1988ء تک جاری رہنے آٹھ سالہ عراق ۔ ایران جنگ میں حصہ لینے سابق فوجی افسروں سے ملاقات میں ‌کیا۔

جنرل رشید کا کہنا تھا کہ عراق اور فلسطین جن حالات سے گذر رہے ہیں۔ ایسے میں ایران کی فوج کی جانب سے ان کی فکری معاونت کے لیے وہاں پر موجود ہونا ضروری ہے۔ انہوں‌ نے مزید کہا کہ مستقبل میں ہونے والی کسی بھی ممکنہ جنگ میں‌ہمارے دشمن کو ذلت آمیز شکست ہو گی۔ ہم دشمن کے حملے سے قبل ہی اپنے دفاع کی تیاری کر رہے ہیں۔ جنرل علی رشید کا مزید کہنا تھا کہ جنگیں جیتنے کے لیے سیاسی اور فوجی قیادت میں ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ اسٹریٹیجک، آپریشنل اور جنگی مہارت کا ہونا بھی ضروری ہے۔

واضح رہے کہ کسی ایرانی عہدیدار کی جانب سے لبنان، فلسطین اور عراق جیسے ممالک میں ‌اپنے فوجی افسران کی موجودگی کا یہ پہلا انکشاف ہے۔ اس سے قبل شام اور یمن میں بھی ایران اپنی فوجوں کی موجودگی کا اعتراف کر چکا ہے۔

شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف جاری مسلح بٍغاوت کچلنے کے لیے ایرانی فوج اور پاسدران انقلاب براہ راست حصہ لے رہی ہے اور ایرانی حکومت کے اہم عہدیدار اس کا برملا اعتراف بھی کر چکے ہیں۔ ان میں کئی اہم فوجی افسر اور سپاہی شام میں خانہ جنگی کے دوران باغیوں کے حملوں میں ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔