''داعش پر فضائی حملے رائیگاں جائیں گے''

داعش کے خلاف صدام حسین ایسی مہم درکار ہے:سابق برطانوی جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

برطانیہ کی مسلح افواج کے سابق سربراہ جنرل لارڈ رچرڈز نے خبردار کیا ہے کہ صرف فضائی حملوں سے دولت اسلامی عراق وشام (داعش)کو شکست نہیں دی جاسکے گی اور مغربی حکومتیں بری فوج کو بھیجنے کے امکان کو مسترد کرکے غلطی کررہی ہیں۔

انھوں نے یہ بات برطانوی ہفت روزے سنڈے ٹائمز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ انتہا پسند جنگجو گروپ کے قلمع قمع کے لیے سنہ 2003ء میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے لیے برپا کی گئی مہم کی طرح کی فوجی کارروائی درکار ہے۔

انھوں نے کہا کہ داعش کو شکست سے دوچار کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ان کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لیا جائے اور اس مقصد کے لیے روایتی فوجی کارروائی کی ضرورت ہے۔

جنرل رچرڈز نے امریکا کی قیادت میں شام اور عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ جنگ کے مقاصد کے حصول کے لیے زمینی فوج کی ضرورت ہوتی ہے۔فضائی حملوں سے داعش کے عناصر تو تباہ ہوجائیں گے لیکن ان سے تزویراتی مقاصد حاصل نہیں ہوں گے۔

انھوں نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ برسرزمین فوجیوں کو بھیجنے سے ''سیاسی مزاحمت'' ہوسکتی ہے لیکن ان کے بہ قول اس کا ایک مؤثر حل یہ ہے کہ مغربی فوجوں کو اس مقصد کے لیے بھیجا جاسکتا ہے۔

جنرل رچرڈز کا یہ انٹرویو برطانوی دارالعوام کی جانب سے عراق میں شامی فضائیہ کو داعش کے ٹھکانوں پر حملوں کی اجازت ملنے کے دوروز بعد شائع ہوا ہے۔ہفتے کے روز برطانیہ کے دو تارنیڈو جنگی طیاروں نے شمالی عراق میں جاسوس پروازیں کی تھیں۔تاہم انھوں نے کسی ہدف کو نشانہ نہیں بنایا۔

برطانوی ہفت روزہ نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ داعش نے شمالی عراق میں فضائی حملوں سے بچنے کے لیے شہری علاقوں میں اپنے سیاہ اور سفید رنگ کے پرچم لہرا دیے ہیں تاکہ امریکا کی قیادت میں اتحادی طیارے شہری آبادیوں کو نشانہ بنائیں اور اس طرح ان کے خلاف عوامی نفرت میں اضافہ ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں