.

اتحادی فوج کی شام میں داعش کے زیرقبضہ گیس فیلڈ پر بمباری

چار آئل ریفائنریز کو بھی نشانہ بنایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی قیادت میں اتحادی فوج نے شام کے مشرقی علاقوں میں شدت پسند تنظیم"دولت اسلامیہ" کے زیر قبضہ ایک بڑے گیس فیلڈ اور چار آئل ریفائنریز پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی"اے ایف پی" نے شام میں سرگرم انسانی حقوق کے گروپوں کے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ اتوار کی شام عالمی اتحادی فوج کے جنگی طیاروں نے داعش کے زیرقبضہ ملک کے سب سے بڑے گیس فیلڈ پر بمباری کی۔ ذرائع کے مطابق اگرچہ گیس فیلڈ پر بمباری ابتدائی نوعیت کی ہے جس کا مقصد عسکریت پسندوں کو اس کا قبضہ چھوڑنے پر مجبور کرنا ہے۔

شام میں انسانی حقوق آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ اتحادی فوج کے جنگی طیاروں نے پہلی مرتبہ مشرقی شام میں "کونیکو" گیس فیلڈ پربمباری کی۔ قبل ازیں امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ اتحادی فوجوں نے داعش کے زیرقبضہ شام میں چار آئل کارخانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے لیے امریکی کمانڈ"سینٹ کام" کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ بمباری میں داعش کے زیرقبضہ چار آئل ریفائنریز کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

سینٹرل کمانڈ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بمباری سے دشمن کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ابتدائی طورپر معلوم ہوا ہے کہ حملے نتیجہ خیز ثابت ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران اتحادی فوجیں مشرقی شام میں داعش کے زیرکنٹرول علاقوں میں 12 آئل کارخانوں کو بمباری سے نشاہ بنا چکی ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ داعش اپنے مالی ضروریات کا ایک وافر حصہ شام اورعراق میں قبضے میں لی گئی آئل ریفانریز کے تیل کی اسمگلنگ سے حاصل کرتا ہے۔ داعشی جنگجو شام سے ترکی کے راستے تیل بیرون ملک اسمگل کرتے ہیں۔ امریکا کی کوشش ہے کہ وہ آئل ریفائریز پر حملے کر کے داعش کو مالی طورپر کمزور کرے تاکہ تنظیم کی عراق اور شام میں توسیع پسندی کے لیے جاری پیش قدمی روکی جا سکے۔