.

ایران داعش سے بڑا خطرہ ہے:نیتن یاہو کا واویلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران دنیا کے لیے دولت اسلامی عراق وشام (داعش) سے بھی بڑا خطرہ ہوگا۔

انھوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں تقریر کے دوران مزعومہ جوہری ایران کے خلاف یہ واویلا کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''داعش کو شکست دی جانی چاہیے اور اس میں کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے لیکن داعش کو شکست سے دوچار کرنا اور ایران کو جوہری قوت بننے کے لیے چھوڑ دینا ایسے ہی ہے کہ جھڑپ تو جیت لی جائے مگر جنگ ہار دی جائے''۔

انھوں نے کہا کہ ایران کی جوہری فوجی صلاحیتوں کا خاتمہ کیا جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ''ایران کی مغرب کے ساتھ حالیہ جذب وجارحیت پر مبنی معاملہ کاری دراصل بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کے لیے تھی اور اس کے جوہری بم تیار کرنے کی راہ میں حائل رکاوٹیں اب دور ہوگئی ہیں''۔

واضح رہے کہ اسرائیل، امریکا اور ان کے مغربی اتحادی ممالک ایران کے بارے میں اس شک کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ وہ جوہری پروگرام کے ذریعے بم تیار کرنا چاہتا ہے لیکن ایران کا یہ موقف رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کا تو سخت مخالف ہے لیکن اس کو مشرق وسطیٰ کی غیرعلانیہ جوہری طاقت مانا جاتا ہے۔

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جنیوا میں 24 نومبر2013ء کو جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور اس کے بدلے میں پابندیوں کے خاتمے سے متعلق چھے ماہ کی عبوری مدت کے لیے سمجھوتا طے پایا تھا۔اس پر 20 جنوری سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے اور اس کی ابتدائی مدت 20 جولائی کو ختم ہوگئی تھی۔

فریقین کے درمیان مجوزہ معاہدے پر اتفاق رائے نہیں ہوا تھا جس کے بعد عبوری سمجھوتے کی مدت میں مزید چھے ماہ کی توسیع کردی گئی تھی۔اب اس کی مدت 20 نومبر کو ختم ہوگی۔عبوری سمجھوتے کے تحت ایران نے یورینیم کی افزدوگی کی تمام سرگرمیوں کو محدود کردیا ہے اور اس کے بدلے میں اس پر عاید اقتصادی پابندیوں میں بتدریج نرمی کی گئی ہے۔اب ایران عالمی طاقتوں کے ساتھ مستقل جوہری معاہدے کے لیے مذاکرات کررہا ہے۔