.

باغیانہ سوچ کو کامیابی سے شکست فاش سے دوچار کیا: شاہ عبداللہ

احترام آدمیت اور مسلم امہ کے اتحاد پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے دین حنیف سے انحراف پر مبنی باغیانہ نظریات کو شکست فاش سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست، عوام سیکیورٹی ادارے، ذرائع ابلاغ اور ثقافتی انجمنیں دہشت گردوں، انتہا پسندوں اور امن دشمن عناصرکو شکست دینے کے لیے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی حکومت اس اندرونی آفت سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شاہ عبداللہ کی جانب سے خصوصی پیغام مکہ مکرمہ میں ہونے والے رابطہ عالم اسلامی کے زیراہتمام ایک سیمینار کے دوران گورنر مکہ شہزادہ مشعل بن عبداللہ نے پڑھ کر سنایا۔ شاہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ اسلامی ثقافت ہی مسلم امہ کی اصل پہچان ہے جس کے ذریعے ہم اسلامی تہذیب وتمدن کے حقیقی چہرے کو دیکھ سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں پھیلے کروڑوں مسلمانوں کی تہذیب ایک ہی ہے۔ کیونکہ مسلمان دین اسلام، رسالت، قرآن، شعائر اسلام کے گرد جمع ہیں اور انہی خصوصیات کی بناء پر مسلم امہ کے حال اور مستقبل کی تعمیرو تشکیل کر رہے ہیں۔

شاہ عبداللہ نے کہا کہ اسلامی ثقافت اور دین اسلام نے مسلمانوں کو یکجا کر دیا ہے مگر مسلم امہ کی یکجائی کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ مسلم امہ کو اپنے علاقائی، جغرافیائی اور مخصوص گروہی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر صرف امت کےاجتماعی مفاد کے لیے ایک پرچم تلے جمع ہونا ہو گا۔

شاہ عبداللہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ عالم اسلام کے ایک ایک فرد کو اپنی دینی ثقافت کو مضبوطی سے تھامنے کے ساتھ اس کے دفاع کے لیے بھی ہر آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرنا ہو گا۔ عالمی برادری اور غیرمسلم اقوام کے ساتھ تعلقات کے قیام کی اسلام میں کوئی ممانعت نہیں اور نہ ہی یہ اسلامی ثقافت اور تہذیب کی خلاف ورزی ہے۔ دنیا کی غیرمسلم ہم عصر اقوام کی تعمیرو ترقی سے مسلم دنیا صرف اسی وقت فائدہ اٹھا سکتی ہےجب وہ دوسری اقوام کے ساتھ اپنی قربت اور تعلق مضبوط کرے۔ اسلام ویسے بھی تمام اقوام اور اولاد آدم کو برداشت کرنے کی تلقین کرتا ہے اور بقائے باہمی کے اصول کا سب سے زیادہ احترام کرے والا دین ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی تہذیب ثقافت میں دہشت گردی، انتہا پسندی اور باغیانہ نظریات کے تحت دوسروں کے جان ومال کو نقصان پہنچانے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ہم علماء، اہل قلم اور مسلم معاشروں کے سنجیدہ فکر دانشوروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مسلمان امہ کو انتہا پسندانہ خیالات جیسی آلائشوں سے بچانے کے لیے اپنا موثر کردار ادا کریں۔