.

ترکی داعش مخالف جنگ سے باہر نہیں رہ سکتا:ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ ان کا ملک شام اورعراق میں دولت اسلامی (داعش) کے خلاف جنگ میں عالمی اتحاد سے باہر نہیں رہ سکتا ہے اور آیندہ ہفتوں میں ترکی کے فوجی کردار کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

صدر طیب ایردوآن نے اتوار کو استنبول میں عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس سے کلیدی خطاب کیا ہے۔اس میں انَھوں نے کہا ہے کہ ''ہم اسی ہفتے اپنے متعلقہ اداروں کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔ہم یقیناً وہاں ہوں گے،جہاں ہمیں ہونا چاہیے۔ہم اس سے باہر نہیں رہ سکتے ہیں''۔

انھوں نے شام میں جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی ترکی میں آمد کو روکنے پر زوردیا ہے اور اس مقصد کے لیے شام کے اندر ہی نوفلائی زون کے قیام کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ترکی کی سرحدوں اور پناہ گزینوں کا تحفظ کیا جاسکے۔انھوں نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ اس مقصد کے لیے زمینی فوج درکار ہوگی کیونکہ یہ کام صرف فضائی بمباری سے نہیں ہوسکتا۔

قبل ازیں ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ ان کی حکومت سوموار کوپارلیمان میں ایک تحریک پیش کرے گی جس میں عراق اور شام میں فوجی کارروائی کے مینڈیٹ میں توسیع کی استدعا کی جائے گی۔

ترکی کی مسلح افواج کے سربراہ نجدت اوزل منگل کو کابینہ کے اجلاس میں بریفنگ دیں گے۔وزیراعظم داؤد اوغلو کا کہناہے کہ پارلیمان میں جمعرات کو شام اور عراق میں فوجی کارروائی کے مینڈیٹ کے حوالے سے بحث کی جائے گی۔تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ترکی کی مسلح افواج دولت اسلامی عراق وشام(داعش) کے خلاف جنگ میں کیا کردار ادا کریں گی۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن ایک عرصے سے شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے پر زوردے رہے ہیں۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ داعش کے خلاف صرف فوجی کارروائی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ شام اور عراق میں درپیش سیاسی مسائل کے تصفیے کے لیے طویل المعیاد حل تلاش کرنا ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''فضا سے بمباری سے صرف ایک عارضی حل ہی برآمد ہوگا۔عراق اور شام میں داعش کے خلاف مربوط کارروائی کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ ہمیں اپنے شامی بھائیوں کو ایک محفوظ زون کے ذریعے ان کے ملک میں واپس بھیجنے کی ضرورت ہے''۔

داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ دو ہفتے کے دوران شام کے کرد آبادی والے قصبے عین العرب اور اس کے نواحی دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔یہ قصبہ ترکی کی سرحد سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اس علاقے سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار مزید شامی مہاجرین اپنا گھر بار چھوڑ کر ترکی کے سرحدی علاقے کی جانب چلے گئے ہیں۔

ترک قیادت نے اس سے پہلے عراق کے شمالی شہر موصل پر داعش کے قبضے اور اپنے کم سے کم پچاس شہریوں کو یرغمال بنائے جانے کی وجہ سے محتاط طرز عمل اختیار کررکھا تھا لیکن گذشتہ ہفتے ان کی محفوظ بازیابی اور ترکی واپسی کے بعد ان کے لب ولہجے میں تبدیلی آئی ہے۔

صدر ایردوآن نے شام میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف امریکا کی قیادت میں فضائی حملوں کا خیرمقدم کیا تھا اور کہا تھا کہ ترکی اس فضائی مہم کے لیے فوجی یا لاجسٹیکل مدد مہیا کرسکتا ہے۔اطلاعات کے مطابق امریکا ترکی پر یہ دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اس کی افواج کو شمالی شام میں داعش کے ٹھکانوں پر حملوں کے لیے اپنے انچرلیک ہوائی اڈے کو استعمال کرنے کی اجازت دے۔ اب پارلیمان کے اجلاس میں یہ معاملہ زیر غور آئے گا اور وہی حکومت کو عراق اور شام میں جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی اجازت دینے کی مجاز ہے۔