.

داعش جیسے انتہا پسند گروپ راتوں رات نہیں بنتے: شہزادہ نایف

وزیرداخلہ نے حج انتظامات کا جائزہ لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیرداخلہ شہزادہ محمد بن نایف نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی برادری سے ہرممکن تعاون کا عہد کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا دولت اسلامی "داعش" جیسے گروپ راتوں رات نہیں بن جاتے بلکہ ان کے وجود میں آنے کے کچھ حقیقی اسباب ہوتے ہیں، مفاداتی قوتیں اس قماش کے گروپوں کو وجود میں لانے کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شہزادہ محمد بن نایف نے ان خیالات کا اظہار مشاعر مقدسہ کے دورے کے دوران کیا۔ انہوں‌ نے مکہ مکرمہ میں حج انت‬‬ظامات کا جائزہ لیا اور سیکیورٹی حکام کو عازمین حج کی فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

اعلیٰ سطحی سیکیورٹی افسران کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ "ہمیں اچھی طرح‌ معلوم ہے کہ داعش جیسے گروپ راتوں رات نہیں بن جایا کرتے ہیں۔ ان کے وجود میں لانے میں‌ کئی دوسرے گروپ، ممالک اور حکومتیں شامل ہوتی ہیں۔ وہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے ذریعے داعش جیسے انتہا پسندوں کو استعمال کرتے ہیں۔ سعودی عرب داعش کے خطرے سے بے پروا نہیں بلکہ ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے داعش کو بھی ہرمقام پر شکست سے دوچار کیا جائے گا۔

انہوں‌ نے مزید کہا کہ داعش سمیت دہشت گردی میں‌ ملوث کسی بھی گروپ کے خلاف سعودی عرب کارروائی میں عالمی برادری سے ہمہ وقت تعاون جاری رکھے گا۔ سعودی عرب نے ماضی میں بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیرمعمولی قربانیاں‌ پیش کی ہیں۔ ہم آئندہ بھی دہشت گردوں کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف سعودی عرب کی جنگ کے ساتھ ساتھ سعودی سیکیورٹی اداروں کی جنگی صلاحیتوں میں‌بھی اضافہ ہوا ہے اور اب پوری دنیا سعودی سیکیورٹی اداروں کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں‌ کامیابیوں کو تسلیم کرنے لگی ہے۔

اس موقع پر سعودی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ملک کے شہریوں کو کسی دوسرے ملک میں‌ جاری خانہ جنگ میں ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ ہمیں پتا چلا ہے کہ نام نہاد مذہبی مبلغ سادہ لوح سعودی شہریوں کو جہاد کے نام پر اکسا کر انہیں بیرون ملک جنگوں میں دھکیل رہے ہیں۔ سعودی حکومت بیرون ملک کسی کارروائی میں حصہ لینے والے افراد کے ساتھ سختی سے نمٹے گی اور ایسے افراد کو کڑی سزائیں‌ دی جائیں‌ گی۔ عالمی امن و سلامتی ہم سب کے لیے امن وسلامتی کا ذریعہ ہے اورکسی بھی دوسرے ملک میں خانہ جنگی میں شامل ہونا عالمی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

سعودی وزیرداخلہ نے یمن کی موجودہ کشیدہ صورت حال پرب ھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یمن کو ایک جانب القاعدہ کی دہشت گردی کا سامنا ہے اور دوسری جانب حوثی شدت پسندوں نے نہ صرف یمن بلکہ دوسرے پڑوسی ممالک کے لیے کئی سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ انہوں‌ نے کہا کہ سعودی عرب یمن میں امن استحکام، قانون کی بالادستی اور عوام کے بنیادی حقوق کے احترام کی حمایت جاری رکھے گا۔ وزیرداخلہ نے یمنی حکومت اور حوثی قبیلے پر زور دیا کہ وہ طاقت آزمائی کے بجائے بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل پر توجہ دیں۔

شہزادہ محمد بن نایف کا کہنا تھا کہ سعودی عوام اور حکمران قیادت کے مابین محبت،احترام اور دوستی کا جو رشتہ مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیزآل سعود نے 84 سال قبل قائم کیا تھا وہ نہ صرف قائم و دائم ہے بلکہ اس میں مزید مضبوطی پیدا ہوئی ہے۔ اس وقت سعودی عوام اور حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف باہم متحد ہیں۔ انہوں‌ نے عوام سے اپیل کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رکھیں۔

عازمین حج کی سیکیورٹی سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں‌ شہزادہ نایف کا کہنا تھا کہ خادم الحرمین الشریفین کی خصوصی ہدایت کے مطابق اللہ کے مہمانوں کے لیے ہرممکن سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ان کی سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں‌ نے اندرون اور بیرون ملک سے آئے عازمین حج پر زور دیا کہ وہ اپنی تمام توجہ مناسک حج،عبادت اور دعا و مناجات پر مرکوز رکھیں، نہ کسی غیرقانونی کام میں‌ پڑیں اور نہ کسی دوسرے کو فساد برپا کرنے دیں۔

ہم اللہ سے امید کرتے ہیں کہ وہ تمام حجاج کرام کی فریضہ حج کی ادائی کے بعد ان کے گھروں کو محفوظ و مامون واپس کرے گا۔ شہزادہ نایف بن عبدالعزیز سیکیورٹی انتظامات کا جائزی لینے تمام ایمرجنسی سیکیورٹی مراکز میں گئے اور حج انتظامات کا جائزہ لیا اور مقامی عملے کو مناسب ہدایات بھی دیں۔