.

نئے افغان صدر کی طالبان کو مذاکرات کی پیش کش

منتخب صدراشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کی حلف برداری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی احمد زئی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے اور انھوں نے اپنی افتتاحی تقریر میں طالبان مزاحمت کاروں کو امن مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔

نئے منتخب افغان صدر کی حلف برداری کی تقریب سوموار کو صدارتی محل کابل میں منعقد ہوئی ہے۔اس میں پاکستان کے صدر ممنون حسین سمیت متعدد غیرملکی شخصیات شریک تھیں۔اشرف غنی نے حلف اٹھانے کے بعد تقریر میں کہا کہ ''ہم حکومت کے مخالفین خاص طور پر طالبان اور حزب اسلامی سے کہیں گے کہ وہ سیاسی مذاکرات کریں ۔انھیں کوئی بھی مسئلہ درپیش ہے،وہ ہمیں بتائیں،ہم اس کا حل تلاش کریں گے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم ہر دیہاتی سے کہتے ہیں کہ وہ امن کا مطالبہ کرے،ہم مسلم دانشوروں ،علماء سے بھی کہیں گے کہ وہ طالبان کو امن کی نصیحت کریں اور اگر وہ ان کی آواز پر کان نہیں دھرتے تو پھر وہ ان سے اپنے تعلقات منقطع کرلیں''۔

اشرف غنی کی حلف برداری کے موقع پر کابل میں تشدد کا سلسلہ جاری رہا ہے اور ہوائی اڈے کے نزدیک خودکش بم دھماکے میں چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ طالبان نے اس حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں منعقدہ حالیہ صدارتی انتخابات میں دونوں امیدواروں اشرف غنی اور ان کے حریف عبداللہ عبداللہ نے اپنی اپنی کامیابی کا دعویٰ کیا تھا۔موخرالذکر امیدوار میں صدارتی انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کے الزامات عاید کیے تھے جس کے بعد ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوگیا تھا اور حامد کرزئی کی سبکدوشی کے بعد پُرامن انتقال اقتدار کے امکانات معدوم نظر آرہے تھے۔

لیکن بعد میں امریکا اور اقوام متحدہ کے شدید دباؤ پر دونوں صدارتی امیدواروں نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے اتفاق کیا تھا اور گذشتہ ہفتے قریباً اسّی لاکھ ووٹوں کی گنتی کے بعد اشرف غنی احمد زئی کو کامیاب قرار دے دیا گیا تھا۔ان انتخابی نتائج کے بعد دونوں حریف صدارتی امیدواروں نے قومی اتحاد کی حکومت کے قیام سے اتفاق کیا تھا اور شراکت اقتدار کے فارمولے کے تحت عبداللہ عبداللہ ملک کے چیف ایگزیکٹو بن گئے ہیں۔یہ نیا تخلیق شدہ عہدہ وزیراعظم کے برابر ہے۔انھوں نے بھی آج اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے اورصدر اشرف غنی نے ان سے حلف لیا ہے۔

حامد کرزئی نے اتوار کی رات اپنی الوداعی تقریر کی تھی اور کہا تھا کہ ''انھوں نے ملک میں قیام امن کے لیے بے پایاں کوششیں کی تھیں لیکن بدقسمتی سے اس سلسلے میں ان کی خواہشات عملی شکل اختیار نہیں کرسکی ہیں لیکن انھیں یقین ہے کہ امن ضرور قائم ہوگا''۔

انھوں نے کہا تھا کہ ''میں منتخب صدر کو حکومتی ذمے داریاں منتقل کردوں گا اور افغانستان میں ایک شہری کی حیثیت سے اپنی نئی زندگی کا آغاز کروں گا''۔ان کا کہنا تھا کہ میں نئے صدر ،حکومت اور آئین کا زبردست حامی ہوں اور ان کے لیے میری خدمات حاضر ہیں۔

افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ مغرب نواز اور اعتدال پسند سمجھے جاتے ہیں۔ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ملک میں امن وامان کا قیام اور طالبان کی مزاحمتی سرگرمیوں کو ختم کرانا ہوگا۔اس کے علاوہ امریکا کی قیادت میں غیرملکی فوجوں کی افغانستان میں تعیناتی برقرار رکھنے سے متعلق معاہدے کی توثیق یا اس کو رد کرنا بھی نئی حکومت کے سامنے ایک اہم چیلنج ہے۔

سبکدوش صدر حامدکرزئی نے امریکا کی قیادت میں ساڑھے بارہ ہزار فوجیوں کو 2015ء تک تربیتی مقاصد کے لیے تعینات رکھنے سے متعلق معاہدے پر دستخط نہیں کیے تھے۔یہ توقع کی جارہی ہے کہ صدر اشرف غنی کی نئی حکومت منگل ہی کو امریکا کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط کردے گی۔