.

افغانستان اور امریکا میں سکیورٹی معاہدے پر دستخط

براک اوباما اور اشرف غنی کی جانب سے معاہدے کا خیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان اور امریکا کے درمیان طویل عرصے سے التوا کا شکار سکیورٹی معاہدہ طے پا گیا ہے اور دونوں ممالک کے نمائندوں نے اس پر دستخط کردیے ہیں۔اس معاہدے کے تحت 2014ء کے بعد بھی امریکی فوج افغانستان میں تعینات رہ سکے گی۔

سکیورٹی معاہدے پر دستخطوں کی تقریب منگل کے روز افغان دارالحکومت کابل میں صدارتی محل میں منعقد ہوئی ہے۔افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر محمد حنیف اتمار اور کابل میں متعین امریکی سفیر جیمز کننگھم نے اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

اس موقع پر افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی احمدزئی نے کہا کہ ''معاہدے سے افغانستان کی دنیا کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی کی عکاسی ہوتی ہے۔یہ معاہدہ صرف افغانستان کی سکیورٹی اور استحکام کے لیے ہے''۔

اشرف غنی نے سوموار کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔ان کے پیش رو صدر حامدکرزئی امریکا کے ساتھ اس دوطرفہ معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کرتے رہے تھے۔ان کا موقف تھا کہ وہ امریکا کی قیادت میں نیٹو فوجیوں کے ہاتھوں افغان شہریوں کی ہلاکتوں کے پیش نظر اس پر دستخط سے گریزاں ہیں۔اس وجہ سے ان کے امریکا کے ساتھ تعلقات سردمہری کا شکار ہوگئے تھے۔

معاہدے کے تحت 2014ء کے بعد قریباً بارہ ہزار غیر ملکی فوجی افغانستان میں تعینات رہ سکیں گے۔ان میں 9800 امریکی فوجی ہوں گے اور باقی فوجیوں کا تعلق نیٹو کے دوسرے رکن ممالک سے ہوگا۔وہ کسی لڑاکا مشن میں حصہ نہیں لیں گے اور صرف افغان سکیورٹی فورسز کو طالبان مزاحمت کاروں کے خلاف جنگ کے لیے تربیت دیں گے۔

31 دسمبر کو جنگ زدہ ملک میں امریکا کی قیادت میں نیٹو کا جنگی مشن ختم ہوجائے گا اور اس تاریخ تک تمام اضافی غیرملکی فوجی افغانستان واپس چلے جائیں گے۔امریکی صدر براک اوباما نے دوطرفہ سکیورٹی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی کے شعبے میں تعاون میں اضافہ ہوگا۔

طالبان مزاحمت کاروں نے افغان حکومت کے امریکا کے ساتھ اس سکیورٹی معاہدے کی مذمت کی ہے۔انھوں نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ یہ افغانستان پر امریکا کا کنٹرول برقرار رکھنے کی ایک سازش ہے۔امریکی اپنی اس گھناؤنی سازش سے عوام کو دھوکا دینا چاہتے ہیں مگرافغان عوام ان کی سازشوں اور مذموم مقاصد کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

صدر اشرف غنی نے اپنی حلف برداری کے بعد تقریر میں طالبان مزاحمت کاروں کو مذاکرات کی پیش کش کی تھی۔انھوں نے کہا کہ''ہم حکومت کے مخالفین خاص طور پر طالبان اور حزب اسلامی سے کہیں گے کہ وہ سیاسی مذاکرات کریں ۔انھیں کوئی بھی مسئلہ درپیش ہے،وہ ہمیں بتائیں،ہم اس کا حل تلاش کریں گے۔ہم ہر دیہاتی سے کہتے ہیں کہ وہ امن کا مطالبہ کرے،ہم مسلم علماء سے بھی کہیں گے کہ وہ طالبان کو امن کی نصیحت کریں اور اگر وہ ان کی آواز پر کان نہیں دھرتے تو پھر وہ ان سے اپنے تعلقات منقطع کرلیں''۔