.

شام:داعش کرد شہر کوبانی سے 5 کلومیٹر دور

امریکی اتحادیوں کی تباہ کن بمباری کے باوجود داعش کی پیش قدمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجو ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع کرد آبادی والے شہر کوبانی (عربی نام عین العرب) سے پانچ کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر رہ گئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ ''داعش کے جنگجو کوبانی کی جانب جنوب اور جنوب مشرق کی سمت سے پیش قدمی کررہے ہیں۔وہ شہر سے صرف پانچ کلومیٹر دور رہ گئے ہیں اور یہ ان کا اس شہر سے اب تک کم سے کم فاصلہ ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''داعش کے جنگجوؤں نے پیش قدمی کرتے ہوئے عین العرب کی جانب پندرہ راکٹ فائر کیے ہیں اور یہ اس شہر پر تباہ کن بمباری ہے۔اس سے ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے''۔داعش نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی گذشتہ ایک ہفتے کے دوران شام کے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں تباہ کن بمباری کے باوجود عین العرب کی جانب پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔

رامی عبدالرحمان نے مزید بتایا ہے کہ شام اور ترکی کی سرحد پر بھی راکٹ گرے ہیں۔سرحد پر ترکی کے علاقے کی جانب موجود اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر نے ایک سرحدی چوکی پر مارٹر گولہ گرنے کی تصدیق کی ہے۔گذشتہ روز اسی علاقے میں شام کے سرحدی علاقے سے فائر کیا گیا گولہ گرنے سے تین افراد زخمی ہوگئے تھے۔

داعش کے جنگجوؤں نے دو ہفتے قبل شام کے شمالی حصے میں واقع عین العرب پر قبضے کے لیے مہم شروع کی تھی۔وہ کرد اکثریتی شہر پر تو اب تک قبضہ نہیں کرسکے لیکن انھوں نے اس سے اردگرد واقع سڑسٹھ دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔علاقے میں لڑائی کے نتیجے میں کم سے کم ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد اپنا گھربار چھوڑ کر ترکی کے سرحدی علاقے کی جانب چلے گئے ہیں۔

عین العرب شام میں کرد آبادی پر مشتمل تیسرا بڑا شہر ہے۔اگر اس شہرپر داعش کا قبضہ ہوجاتا ہے تو پھر ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع شام کے تمام علاقے پر ان کا کنٹرول قائم ہوجائے گا۔