.

"جنگ سے متاثرہ سوا لاکھ فلسطینی مکان کے چھت سے محروم:یو این"

غزہ کے اسکولوں میں اسلحہ کا اسرائیلی الزام بے بنیاد ہے:یو این

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کی بحالی کے ادارے"اونروا" کے سربراہ پیر کراھنپول نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی 51 روزہ جارحیت کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے سوالا کھ فلسطینی اب بھی بے یارو مدد گار کھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دولت اسلامی"داعش" کے خلاف عالمی برادری کے آپریشن کے نتیجے میں غزہ میں بحالی اور امدادی کام متاثر ہو رہے ہیں۔

'یو این' مندوب نے ان خیالات کا اظہار"العربیہ" نیوز چینل کے پروگرام"ڈپلومیٹک روڈ" میں صحافی طلال الحاج سے گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں‌ نے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی و بربادی اور شہریوں کی مشکلات کا تفصیل سے نقشہ کھینچا۔

مسٹرکراھنپول کا کہنا تھا کہ اس وقت عالمی برادری کی زیادہ توجہ شام اور عراق میں دہشت گردی میں ملوث تنظیم دولت اسلامی کے خلاف کارروائی پر مرکوز ہے۔ اس لیے فوری طور پر عالمی توجہ غزہ کے متاثرین کی طرف مبذول کرانا مشکل ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں 08 جولائی 2014ء کے اسرائیلی حملے سے قبل میں نے شہر کا دورہ کیا تو مجھے وہاں کے حالات دیکھ کر سخت رنج ہوا، کیونکہ بے روزگاری اور غربت اپنی انتہا پر تھے اور شہر کے 08 لاکھ باشندے عالمی امداد کے منتظر تھے۔ غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد صورت حال مزید ابتر ہوگئی تاہم عالمی برادری کی جانب سے امداد کے وعدوں کے بعد امید کی ایک نئی کرن پھوٹی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں "اونرو" کے سربراہ نے کہا کہ دوسرے ملکوں میں عارضی طور پر مقیم فلسطینی پناہ گزینوں کی حالت بھی تسلی بخش نہیں۔ شام میں خانہ جنگی کے باوجود اب بھی 04 لاکھ 50 ہزار فلسطینی پناہ گزین موجود ہیں۔ جبکہ ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ شام سے نصف ملین فلسطینی پناہ گزین خانہ جنگی کے باعث دوسرے ملکوں میں نقل مکانی پرمجبور ہوئے ہیں۔ شام کی نسبت اردن میں 14 ہزار اور لبنان میں 40 ہزار فلسطینی پناہ گزین نسبتا بہتر زندگی گذار رہے ہیں۔ اس وقت اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی پوری کوشش فلسطینی پناہ گزینوں کو بہتر تعلیم، صحت ، رہائش اور خوراک کی فراہمی پر مرکوز ہے۔

اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے پیر کراھنپول کا کہنا تھا کہ شام، فلسطین اور دوسرے عرب ممالک میں پناہ گزین فلسطینی بنیادی انسانی ضروریات سے محرومی کے نتیجے میں سمندر کے راستے یورپ کی طرف نکلنے پر مجبور ہو رہے ہیں، لیکن یورپ کی طرف نقل مکانی کوئی آسان کام نہیں بلکہ یہ بھی زندگی اور موت کا ایک کھیل ہے۔

غزہ میں "اونروا" کے اسکولوں پر اسرائیلی فوج کی بمباری کی تحقیقات کے سوال پرکراھنپول نے کہا کہ میں‌نے ایسے واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ اسرائیلی فوج کے جنگی طیارے غزہ کی پٹی میں ان اسکولوں پر بھی بم برساتے رہے جہاں بچے اور خواتین پناہ لیے ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں اونروا کے زیرانتظام اسکولوں کی عمارتوں سے اسلحہ ملنے کے اسرائیلی الزامات قطعی بے بنیاد ہیں۔ جن عمارتوں کو اسرائیل نے اسکول قرار دیا وہ ویران مکانات تھے،ان کا اونروا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں‌ نے بتایا کہ اب بھی غزہ کی پٹی میں اقوام متحدہ کے اسکولوں میں گھروں سے محروم ہونے والے 55 لاکھ فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر مکان کی چھت سے محروم افراد کی تعداد ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ ہے۔ موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی ان لوگوں کی مشکلات مزید دو چند ہونے کا اندیشہ ہے۔