.

مناسکِ حج کا آغاز،سخت سکیورٹی انتظامات

لاکھوں عازمین کا منیٰ میں کھلے آسمان تلے قیام، جمعہ کو یوم عرفہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں فرزندان توحید نے مناسک حج کی ادائی کا آغاز کر دیا ہے۔ وہ شب منیٰ میں کھلے آسمان تلے خیموں میں گزاررہے ہیں اور جمعہ کو حج کے رکن اعظم کے لیے میدان عرفات میں جمع ہوں گے جہاں وہ خطبہ حج سماعت کریں گے۔

صاحب استطاعت مسلمانوں پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہونے والی اس سالانہ عبادت کی ادائی کے لیے امسال قریبا چودہ لاکھ غیر ملکی مسلمان سعودی عرب پہنچے ہیں۔اطلاعات کے مطابق غیرملکی عازمین حج میں سب سے زیادہ تعداد انڈونیشیا سے تعلق رکھتی ہے اور وہاں سے ایک لاکھ اڑسٹھ ہزار سے زیادہ مسلمان فریضہ حج ادا کررہے ہیں۔ عازمین حج کی امسال تعداد کے حوالے سے پاکستان کا نمبر دوسرا ہے۔ پاکستان سے مجموعی طور پر ایک لاکھ تینتالیس ہزار سے زائد عازمین حج کے لیے پہنچے ہیں۔

اس مرتبہ فضائی سفر کرکے سعودی عرب پہنچنے والے عازمین حج کی تعداد 12 لاکھ ترانوے ہزار، دو سو اڑتالیس ہے، جبکہ زمینی راستوں سے فریضہ حج کے لیے آنے والوں کی تعداد ستاون ہزار آٹھ سو چھہتر اور سمندری راستوں سے آنے والوں کی تعداد تیرہ ہزار نو سو بیاسی ہے۔

مجموعی طور پر دنیا کے ایک سو ساٹھ ملکوں سے عازمین حج کے قافلے پہنچے ہیں۔ عازمین حج کی بڑی تعداد منیٰ میں قائم شہر حجاج میں جمع ہے۔ جہاں سے رات کے وقت ان کی میدان عرفات آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

میدان عرفات میں واقع مسجد نمرہ میں جمعہ کو خطبہ حج ہو گا۔مسلمان نماز عصر تک میدان عرفات میں ٹھہریں گےاور مغرب و عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں مختصر قیام کے دوران ادا کریں گے۔وہ مزدلفہ سے کنکر جمع کریں گے اور اگلے روز منیٰ میں قیام کے دوران قربانی سے پہلے شیطان کو کنکر ماریں گے۔اس طرح وہ شیطان سے اپنی ازلی و ابدی مخالفت کا اظہار کریں گے۔

تاہم منیٰ پہنچنے سے پہلے وہ طواف کعبہ کے لیے بیت اللہ واپس آئیں گے اور طواف مکمل کرتے ہی منیٰ روانہ ہو جائیں گے۔ جہاں دس ذوالحجہ کو شیطانوں کو کنکر مارنے کے بعد سنت ابراہیمی ادا کرتے ہوئے قربانی کریں گے اور بعد ازاں سر منڈوا کر احرام اتار دیں گے۔

سعودی حکومت نے رحمان کے مہمانوں کی خدمت کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے ہیں۔ حجاج کی حفاظت کے لیے سکیورٹی کا گذشتہ برسوں سے بھی زیادہ موثر اہتمام کیا گیا ہے اور مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لیے قریبا ستر ہزار سکیورٹی اہلکار متعین کیے گئے ہیں جبکہ فضائی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔