.

ایران:قاتلہ کی سزائے موت پر عمل درآمد مؤخر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں ایک مرد کے قتل کے جُرم میں پھانسی کی منتظر عورت کی سزا پر
عمل درآمد دس روز کے لیے مؤخر کردیا گیا ہے۔

چھبیس سالہ ریحانہ جباری کو 2007ء میں ایران کی سراغرسانی کی وزارت کے
ایک سابق ملازم مرتضیٰ عبدالعلی سربندی کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا
گیا تھا اور عدالت نے اسے 2009ء میں قصوروار قرار دے کر سزائے موت سنائی
تھی۔ملزمہ کا کہنا تھا کہ مقتول نے اس کی آبروریزی کی کوشش کی تھی اور اس
نے اس دوران اس کو قتل کردیا تھا۔

اس عورت کو عدالت سے سنائی گئی سزائے موت کے خلاف انسانی حقوق کی عالمی
تنظیموں اور ان کے کارکنان نے آواز اٹھائی ہے اور اس کی حمایت میں پٹیشن
پر انیس ہزار افراد نے دستخط کیے تھے جس پر ایران کی عدالت عظمیٰ نے اس
کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد مؤخر کرنے کا حکم دیا ہے۔

ریحانہ جباری کو آج بدھ کو تختہ دار پر لٹکایا جانا تھا لیکن انسانی حقوق
کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے برطانوی روزنامے دی انڈی پینڈینٹ کو
بتایا ہے کہ انھیں ان کے ذریعے نے پھانسی مؤخر ہونے کی اطلاع دی ہے لیکن
یہ نہیں بتایا کہ آخری لمحے میں عورت کی سزا پر عمل درآمد کیوں روک دیا
گیا ہے۔

ایمنسٹی کے ایک ترجمان نے اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی حکام سے
مطالبہ کیا ہے کہ اس عورت کو ہفتے عشرے کے بعد بھی پھانسی نہ دی جائے اور
اس کے بجائے اس کے کیس کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔

تہران کی ایوین جیل کے حکام نے ریحانہ جباری کی والدہ کو میّت وصول کرنے
کے لیے آنے کی بھی اطلاع کردی تھی مگر بعد میں انھیں بتایا گیا کہ ان کی
بیٹی کو پھانسی نہیں دی جارہی ہے۔

ملزمہ گرفتاری کے بعد سے ایوین جیل میں قید ہے۔اس نے تفتیش کے دوران
مقتول سربندی کو پشت میں چاقو گھونپنےکا تو اعتراف کیا تھا لیکن یہ بھی
کہا تھا کہ اس کو ایک اور شخص نے ہلاک کیا تھا۔ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اس
کے اس دعوے کی کبھی مناسب انداز میں تفتیش نہیں کی گئی ہے۔