.

کابل: طالبان کے دو خودکش بم حملے،6 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کے دوخودکش بمباروں نے آرمی کی
بسوں پر حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں چھے افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

کابل پولیس کے شعبہ تفتیش کے سربراہ فرید فاضلی نے بتایا ہے کہ دو خودکش
حملہ آوروں نے بدھ کی صبح افغان نیشنل آرمی کی دو بسوں کو بم حملوں میں
نشانہ بنایا تھا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق بم دھماکوں میں مرنے والوں میں
فوجی اور عام شہری شامل ہیں۔

طالبان نے ان خودکش بم حملوں کی ذمے داری قبول کرلی ہے اور یہ دعویٰ کیا
ہے کہ ان میں کم سے کم بیس افغان فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔طالبان کے ترجمان
ذبیح اللہ مجاہد نے اے ایف پی سے فون کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ
''یہ غلامی کا معاہدہ کرنے والی آلہ کار حکومت کے لیے واضح پیغام ہے۔اس
کے بعد ہم اپنے حملے تیز کردیں گے''۔

طالبان کے کابل میں فوجیوں پر اس حملے سے صرف ایک روز قبل ہی نئی افغان
حکومت نےامریکا کے ساتھ طویل عرصے سے التوا کا شکار سکیورٹی معاہدے پر
دستخط کیے ہیں۔اس معاہدے کے تحت 2014ء کے بعد بھی امریکی اور غیرملکی
فوجی افغانستان میں تعینات رہ سکیں گے۔

افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی احمدزئی کا کہنا ہے کہ''اس معاہدے سے
افغانستان کی دنیا کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی کی عکاسی ہوتی ہے۔یہ معاہدہ
صرف افغانستان کی سکیورٹی اور استحکام کے لیے ہے''۔اشرف غنی نے سوموار کو
اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

ان کے پیش رو صدر حامدکرزئی امریکا کے ساتھ اس دوطرفہ معاہدے پر دستخط
کرنے سے انکار کرتے رہے تھے۔وہ امریکا کی قیادت میں نیٹو فوجیوں کے
ہاتھوں افغان شہریوں کی ہلاکتوں کے پیش نظر اس پر دستخط سے گریزاں رہے
تھے اوراس وجہ سے ان کے امریکا کے ساتھ تعلقات سردمہری کا شکار ہوگئے
تھے۔

سکیورٹی معاہدے کے تحت 31 دسمبر 2014ء کے بعد قریباً بارہ ہزار غیر ملکی
فوجی افغانستان میں تعینات رہ سکیں گے۔ان میں 9800 امریکی فوجی ہوں گے
اور باقی تین ہزار فوجیوں کا تعلق نیٹو کے دوسرے رکن ممالک اٹلی ،فرانس
وغیرہ سے ہوگا۔وہ کسی لڑاکا مشن میں حصہ نہیں لیں گے اور صرف افغان
سکیورٹی فورسز کو طالبان کی مزاحمتی سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے تربیت دیں
گے۔

امریکا کی قیادت میں نیٹو فوج کا جنگی مشن اس سال کے آخر میں ختم ہوجائے
گا۔اس وقت بھی ان کی سرگرمیاں صرف دارالحکومت کابل یا دوسرے بڑے شہروں تک
ہی محدود ہیں اور سکیورٹی کی ذمے داریاں افغان فوج اور پولیس کے سپرد کی
جاچکی ہیں لیکن یہ فورسز طالبان کی مزاحمتی سرگرمیوں کو کچلنے میں بری
طرح ناکام رہی ہیں اور طالبان جنگجو ان پر تباہ کن حملے کرتے رہتے
ہیں۔بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیٹو فوج کے انخلاء کے بعد افغان
فورسز طالبان جنگجوؤں کا مقابلہ نہیں کرسکیں گی۔