.

بن غازی:جھڑپیں اور دھماکے،7 فوجی ہلاک

ہوائی اڈے کے نزدیک فوجی چیک پوائنٹ پر دو خودکش بم حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی میں دو خودکش بم دھماکوں اور جھڑپوں میں سات فوجی ہلاک اور پچاس زخمی ہوگئے ہیں۔

بن غازی میں سابق فوجی جنرل خلیفہ حفتر کے زیرکمان دستوں اور اسلامی جنگجوؤں کے درمیان کچھ دنوں کے وقفے کے بعد ایک مرتبہ پھر شدید لڑائی چھڑ گئی ہے۔جمعرات کو ہوائی اڈے کے نزدیک فوج کے ایک چیک پوائنٹ پر دوکار بم دھماکے ہوئے ہیں جن میں تین فوجی مارے گئے ہیں۔

لیبیا کے خصوصی دستوں کے ایک کمانڈر کے مطابق اسی علاقے میں فوجیوں اور اسلامی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں چار فوجی مارے گئے ہیں۔آخری اطلاعات ملنے تک علاقے میں لڑائی جاری تھی۔

ان صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ مجلس شوریٰ کی فورسز کو جھڑپوں میں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے لیکن انھوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی کہ لڑائی میں ان کے مخالف کتنے جنگجو مارے گئے ہیں۔بن غازی میں مختلف جہادی دھڑوں سے تعلق رکھنے والے جنگجو مجلس شوریٰ کے پرچم تلے لڑرہے ہیں اور وہ گذشتہ کئی ہفتوں سے ہوائی اڈے پر قبضے کی کوشش کررہے ہیں۔البتہ اس سے پہلے وہ فوج کے متعدد اڈوں پر قبضہ کر چکے ہیں۔

لیبی دارالحکومت طرابلس پر اسلامی جنگجوؤں پر مشتمل فجر لیبیا کا قبضہ ہے اور انھوں نے وہاں اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے جبکہ مغرب کے حمایت یافتہ وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت نے دوردراز مشرقی شہر طبرق میں اپنے دفاتر قائم کررکھے ہیں اور نئی پارلیمان کے اجلاس بھی وہیں منعقد ہوتے ہیں۔مغربی طاقتیں اس خدشے کا اظہار کرتی چلی آرہی ہیں کہ لیبیا ایک ناکام ریاست بن سکتا ہے جبکہ کمزور مرکزی حکومت مسلح جنگجو گروپوں پر قابو پانے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے اور ملک بھر میں عملاً طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے۔

طرابلس پر قابض فجر لیبیا نے اگلے روز اقوام متحدہ کی ثالثی میں اپنے مخالفین کے ساتھ امن بات چیت کو مسترد کردیا ہے اور انھوں نے بن غازی میں سابق فوجی جنرل خلیفہ حفتر کے وفادار جنگجوؤں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔فجر لیبیا نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ''کوئی بھی انھیں فوجی کارروائیوں سے نہیں روک سکتا ہے''۔

انھوں نے اپنے متحارب جنگجوؤں پر الزام عاید کیا کہ وہ ملک میں قیام امن میں سنجیدہ نہیں ہیں۔اگر وہ سنجیدہ ہوتے تو انھیں مئی میں اس بات چیت پر زوردینا چاہیے تھا جب مجرم خلیفہ حفتر اور ان کے حامیوں نے بن غازی میں بمباری کا آغاز کیا تھا۔فجر لیبیا کا کہنا ہے کہ لڑائی ختم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ان کے مخالفین کو غیرمسلح کردیا جائے اور ان کے لیڈروں کے خلاف مقدمات چلائے جائیں۔