.

فلسطین کو تسلیم کرنا قبل از وقت ہے:امریکا

سویڈن کے اعلان کے بعد برطانیہ پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے سویڈن کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کے اعلان کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر فلسطینی ریاست کی پذیرائی اور قبولیت قبل از وقت ہے۔ ''

یہ بات امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جین سکئی نے سویڈن کے حالیہ اعلان کے بعد رپورٹرز سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ '' یقینی طور پر ہم فلسطینی ریاست کے قیام کا حق مانتے ہیں لیکن یہ ایک مذاکراتی عمل اور معاملات کے طے ہونے پر ہی ہو سکتی ہے، نیز اس کے لیے دونوں فریقوں کی منظوری ضروری ہے۔ ''

سویڈن کے وزیر اعظم سٹیفن لوفوین نے جمعہ کے روز پارلیمان کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ سویڈن کے اس اعلان کی بنیاد پر پہلا یورپی ملک ہو گا جس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا باضابطہ عندیہ دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2012 میں فلسطینی ریاست کو عملی طور پر تسلیم کر لیا تھا جبکہ یورپی یونین کی طرف سے ابھی اسے تسلیم نہیں کیا گیاہے۔تاہم سویڈن کی طرف سے تسلیم کیے جانے کے اعلان کا فلسطینیوں نے خیر مقدم کیا ہے۔ سویڈن کو یورپی ممالک میں ایک دیانت دارانہ رائے رکھنے اور عالمی مصالحت کار ملک کے طور پر جانا جاتا ہے۔

دریں اثناء برطانیہ اور عربوں کے درمیان افہام و تفہیم بڑھانے کے لیے قائم ادارے ''سی اے اے بی یو ''نے برطانیہ پر زور دیا ہے کہ سویڈن کی طرح وہ بھی فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کرے۔

اس ادارے کے ڈائریکٹر کرس ڈولی نے کہا'' اس طرح فلسطین کو تسلیم کیے جانے سے زمین پر کوئی عملی تبدیلی رونما نہیں ہو سکے گی، البتہ ایک علامتی پیش رفت ہو گی اور فلسطین مخالف عناصر کو مضبوط پیغام جائے گا۔''

خیال رہے کہ یورپی یونین کے تین رکن ممالک ہنگری، پولینڈ اور سلواکیہ فلسطین کو تسلیم کرچکے ہیں لیکن انھوں نے یہ اقدام 28 رکنی یورپی یونین میں شمولیت سے قبل کیا تھا۔