.

یہودی بستیوں کی تعمیر، اسرائیل سے تعلقات داؤ پر لگ سکتے ہیں :یورپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل مشرقی بیت المقدس میں غیرقانونی کالونیوں کی تعمیر کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے ورنہ تل ابیب کے ساتھ تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔

برسلز میں یورپی یونین کے صدر دفتر سے جمعہ کے روز جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات کی بنیاد امن معاہدوں کے احترام میں مضمر ہے۔ اسرائیل متنازعہ عرب اور فلسطینی علاقوں کے مستقبل کے حوالے سے طے پائے عالمی امن معاہدوں کی پاسداری کرے۔ اگر صہیونی ریاست مشرقی بیت المقدس میں یک طرفہ طور پر یہودی آباد کار کا سلسلہ جاری رکھتی ہے تو اس سے دو طرفہ تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ یورپی یونین کی جانب سے یہ انتباہی بیان مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کے 2610 نئے فلیٹس کی تعمیر کے اعلان کے رد عمل میں جاری کیا گیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے ایک حالیہ اجلاس میں مشرقی بیت المقدس میں بیت صفافا کے مقام پر اڑھائی ہزار سے زائد نئے مکانات کی تعمیر کی منظوری دی گئی تھی۔ پیش آیند ایام میں ان تعمیرات کے لیے ٹینڈر جاری کر دیے جائیں گے۔

یورپی یونین کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی برادری مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے کوشاں ہے اور فریقین پر مسلسل بات چیت کے ذریعے تنازعات طے کرنے پر زور دے رہی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے غیر قانونی یہودی کالونیوں کی تعمیر کا عمل جاری رہتا ہے تو امن مذاکرات کی کامیابی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی ہے۔ یورپی یونین بیت المقدس میں مزید اڑھائی ہزار مکانات کی تعمیر کے اسرائیلی اعلان کی مذمت کرتے ہوئے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کرتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یک طرفہ اقدامات سے فریقین کو روکنا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ ہر فریق اپنی مرضی کے اقدامات کرتا رہا ہے توزمینی صورت حال میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ یورپی یونین سنہ 1967ء کی جنگ میں اسرائیل کے قبضے میں چلے گئے شہروں پر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام جس میں بیت المقدس کو اس کا دارالحکومت قرار دیا جائے کی حمایت جاری رکھے گی۔

خیال رہے کہ فلسطین میں اسرائیل کی غیر قانونی توسیع پسندی کے خلاف یورپی برادری کی جانب سے یہ موقف پہلی بار سامنے نہیں آیا بلکہ ماضی میں‌ بھی یورپی یونین فلسطینی شہروں میں یہودی کالونیوں کی توسیع کی مذمت کرتی رہی ہے۔ البتہ تازہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب فلسطینی اتھارٹی آزاد ریاست کو تسلیم کرانے کے لیے سلامتی کونسل سے رجوع کی تیاری کر رہی ہے۔ کئی یورپی ممالک بالخصوص سویڈن اور اٹلی نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔