.

ایران کی عسکری طاقت بحر متوسط تک پھیل چکی: پاسداران انقلاب

طاقت کا توازن تہران کے حق میں تبدیل ہو رہا ہے: حسین سلامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی طاقتور فورس پاسداران انقلاب کے ڈپٹی چیف جنرل حسین سلامی نے کہاہے کہ تہران کی فوجی قوت کا دائرہ بحر متوسط کے مشرق تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن تیزی کے ساتھ ایران کے حق میں تبدیل ہو رہا ہے۔

خبر رساں ایجنسی"فارس" کے مطابق بو شہر کے مقام پر ایک عسکری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سلامی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے دفاع کی جنگ کا دائرہ اب سرحدوں سے باہر نکل چکا ہے۔ ماضی میں ہم اپنی جغرافیائی حدود میں جنگ لڑتے رہے ہیں لیکن اب ہم بحر متوسط کے مشرق تک پہنچ چکے ہیں جہاں دور تک دشمن ک تعاقب کیا جاسکتا ہے۔ ان کے اس بیان پرعرب ذرائع ابلاغ ، سیاسی اور عسکری حلقوں میں شدید رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔

جنرل حسین سلامی کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری تبدیلیوں کے نتیجے میں اپنے مخصوص سیاسی عزائم کی تکمیل کی خواہاں قوتوں کو منہ کی کھانی پڑی اور دشمنوں کا گھیرا اب مزید تنگ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے گیارہ سال تک عراق کی سرزمین کو تاخت و تاراج کیا اور ناکامی کے بعد ملک کو سیاسی عدم استحکام کی حالت میں چھوڑ کر فرار ہوا۔ چنانچہ ایران کو عراق میں مداخلت کرنا پڑی اور تہران کی کوششوں سے سیاسی خلاء پُر ہوا۔

اپنی تقریر میں پاسداران انقلاب کے عہدیدار نے مغرب کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں ‌نے کہا کہ مغربی طاقتوں نے ایران کے جوہری پروگرام کی آڑ میں تہران کو کمزور کرنے کی سازش کی تھی لیکن ہم نے حکمت سے دشمن کی تمام چالیں الٹ دیں۔ وہ اپنے عزائم پورے کرسکے ہیں اور نہ ہی آئندہ کرسکیں گے۔

جنرل حسین سلامی نے کہا کہ شام اور عراق میں سرگرم دہشت گرد تنظیم دولت اسلامی عراق و شام"داعش" امریکا کی پیدوارا ہے۔ انہوں ‌نے کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی اپنی پیدا کردہ تنظیم کی سرکوبی میں بھی کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب اب داعش کےخلاف جنگ کے لیے ایران سے مدد مانگ رہا ہے۔