.

جاپانی طالب علم کی داعش میں شمولیت کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جاپان کے ایک طالب علم نے اپنی جامعہ سے رخصت لینے کے بعد شام جانے اور وہاں پہنچ کر دولت اسلامی (داعش) میں شمولیت کی کوشش کی تھی۔اس الزام میں اس کو دھر لیا گیا ہے اور اب اس کے خلاف تحقیقات کی جارہی ہے۔

جاپانی کابینہ کے چیف سیکریٹری یوشیہیدا سوگا نے منگل کو ایک دارالحکومت ٹوکیو میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ اس طالب علم سے پولیس تفتیش کررہی ہے لیکن انھوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔

جاپانی روزنامے آساہی شمبون کی اطلاع کے مطابق اس طالب علم کی عمر چھبیس سال ہے اور وہ ملک کے شمال میں واقع ہوکیڈا یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔اس نے شام جانے کے لیے جامعہ سے رخصت لی تھی اور وہ وہاں دولت اسلامی میں شامل ہونا چاہتا تھا۔

سیکریٹری سوگا نے کہا ہے کہ ''پولیس نے فوجداری قانون کی بنیاد پر چھاپہ مار کارروائی کی تھی لیکن میں اس کی مزید تفصیل بتانے سے قاصر ہوں کیونکہ اس معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ عالمی برادری کے رکن کی حیثیت سے ہمارا ملک دہشت گرد سے بچنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گذشتہ ماہ ایک قرارداد کی منظوری دی تھی جس میں رکن ممالک سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے شہریوں کے جنگ زدہ ممالک میں جانے اور وہاں جنگجو گروپوں میں شامل ہونےسے روکنے کے لیے اقدامات کریں اور اس کو فوجداری جرم قراردیں۔

اخبار آساہی کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے اس طالب علم کے پاسپورٹ کو ضبط کر لیا ہے اور ٹوکیو کے ایک بُک اسٹور سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے بھی پوچھ تاچھ کی جارہی ہے،اس نے اپنی دُکان میں شام میں ملازمت کے لیے بھرتی کا اشتہار دیا تھا۔

واضح رہے کہ جاپان کی فضائیہ کے سابق سربراہ توشیو تاموگامی نے اسرائیلی حکومت کے ایک سینیر عہدے دار کے حوالے سے بتایا تھا کہ نو جاپانیوں نے عراق اور شام میں برسرپیکار داعش میں شمولیت اختیار کی ہے لیکن سیکریٹری سوگا نے اس وقت یہ کہا تھا کہ اس اطلاع کی تصدیق نہیں کی جاسکتی ہے۔

دوسری جانب امریکا کی مسلح افواج کی بحرالکاہل کمان کے سربراہ ایڈمرل سیموئیل لاک لئیر نے گذشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارت سے بحرالکاہل تک واقع خطے سے تعلق رکھنے والے قریباً ایک ہزار جنگجو داعش کی صفوں میں شامل ہیں اور وہ عراق اور شام میں لڑرہے ہیں۔