.

داعشی جنگجوؤں کی رہائی کے بدلے ترک یرغمالیوں کی بازیابی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی اخبار"ٹائمز" نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکی نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق وشام"داعش" کے دو برطانوی نژاد شدت پسندوں سمیت 180 جنگجوؤں کو تنظیم کے حوالے کرکے اپنے یرغمالی شہری بازیاب کرا لیے ہیں۔

اخباری رپورٹ کے مطابق کچھ عرصہ قبل برطانیہ سے ترکی کے راستے شام میں داعش میں شمولیت کے لیے جانے والے دو جنگجوؤں کو انقرہ میں حراست میں لیا گیا تھا۔ ان دونوں جنگجوؤں کے بدلے میں داعش اور ترکی کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل طے پائی۔ ترکی نے برطانوی جنگجوؤں کو ان کے ملکوں کو واپس کرنے کے بجائے اُنہیں داعش کے حوالے کر دیا ہے۔ اس کے بدلے میں داعش نے عراق اور شام میں یرغمال بنائے گئے ترک شہریوں اور سفارت کاروں کو رہا کر دیا ہے۔ تاہم بازیاب ہونے والے ترک شہریوں کی تعداد معلوم نہیں ہو سکی۔

خیال رہے کہ تُرکی اور داعش کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی بات چیت کئی ہفتوں سے پس چلمن جاری رہی ہے۔ ترکی کی جانب سے بھی اچانک یہ اعلان سامنے آیا ہے کہ اس نے شدت پسند گروپ کے چنگل میں پھنسے اپنے سفارت کار باز یاب کرا لیے ہیں۔ البتہ ترک حکومت کی طرف سے اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں ہو سکی کہ آیا سفارت کاروں کی بازیابی کے بدلے میں داعشی جنگجو رہا کیے گئے ہیں یا نہیں۔

اخبار"ٹائمز" نے داعش کے حوالے کیے گئے جنگجوؤں کی شناخت 18 سالہ شہباز سلیمان اور 26 سالہ ھشام فول کارڈ کے ناموں سے کی ہے۔ یہ دونوں انقرہ پولیس کے زیرحراست ان 180 جنگجوؤں میں شامل تھے جنہیں ترک سفارت کاروں کی رہائی کے بدلے میں چھوڑا گیا ہے۔

پچھلے ماہ ترک حکومت کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ اس نے عراق کے شہر موصل سے پانچ ماہ قبل یرغمال بنائے گئے اپنے 47 شہریوں اور تین عراقیوں کو بازیاب کرا لیا ہے۔ یہ تمام افراد موصل میں ترکی کے قونصل خانے کے ملازم بتائے گئے تھے۔

اخبار لکھتا ہے کہ ترکی نے اپنے سفارت کاروں اور دوسرے شہریوں کی رہائی کے بدلے میں مجموعی طور پر داعش کے 180 جنگجوؤں کو رہا کیا ہے۔ ان میں دو برطانوی بھی شامل ہیں جو برطانوی انٹیلی جنس اداروں نے اشتہاری قرار دے رکھے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ترکی میں گرفتار کیے گئے جنگجو شام اور عراق میں خانہ جنگی کے دوران زخمی ہونے کے بعد انقرہ اور دوسرے شہروں میں علاج کی غرض سے آئے تھے۔ ترک سیکیورٹی اداروں کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے اسپتالوں میں چھاپے مار کر انہیں گرفتار کرلیا تھا۔ داعش کے حوالے کیے گئے جنگجوؤں میں برطانیہ کے علاوہ فرانس، سویڈن، مقدونیا، سوئٹرزلینڈ اور بلیجیم کے باشندے بھی شامل ہیں۔