.

افغانستان میں پانچ افراد کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا

پانچوں پر راہزنی اور آبرو ریزی کا الزام تھا، ایمنسٹی کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں پانچ افراد کو مسلح رہزنی اور جبری آبروریزی کے جرم میں پھانسی کی سزا دے دی گئی ہے۔ اس مقدمے کی وجہ سے پورے ملک میں حالیہ ہفتوں کے دوران سخت عوامی غم و غصہ سامنے آیا تھا۔

کابل پولیس کے سربراہ جنرل محمد ظاہر سعدی کے مطابق پانچوں مجرموں کو بدھ کے روز پھانسی پر لٹکایا گیا ہے۔

واضح رہے پانچوں کو پھانسی دینے کے حکمنامے پر صدر حامد کرزئی نے پچھلے ماہ صدارتی منصب سے فارغ ہونے سے محض چند روز قبل دستخط کیے تھے۔

سابق صدر حامد کرزئی نے افغانستان کے صدر کے طور پر اپنی طویل صدارتی مدت کے دوران ایسے حکمنامے پر شاذ ہی دستخط کیے تھے۔

بتایا گیا ہے کہ ماہ اگست میں پولیس یونیفارم میں ملبوس آٹھ افراد نے ایک افغان خاندان کی گاڑی کابل سے باہرروک لیا اور گاڑی پر سوار چار خواتین کی عزت پامال کی۔

ان چار خواتین میں سے ایک حاملہ تھی۔ ان خواتین کو زبردستی گاڑی سے نکال کر ایسی جگہ لے جایا گیا جہاں سے ان کے چیخنے کی آوازیں سنی جا سکتی تھیں۔

اس واقعے پر پچھلے ماہ ابتدائی طور پر سات افراد کو سزائے موت سنائی گئی تاہم بعد ازاں دو ملزمان کی سزا کو 20 سال تک قید میں بدل دیا گیا۔ واضح رہے کرزئی دور میں صرف دو مرتبہ پھانسی دینے کا واقعہ پیش آیا ہے۔

انسانی حقوق کے نام پر کام کرنے والے گروپوں نے پھانسیوں کی مذمت کی ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایشیا پیسفک کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر نے ان مجرموں کے جرم کی سنگینی کو محسوس کرنے کے باوجود کہا ہے کہ سزائے موت دینا درست نہیں ہے۔

ایمنسٹی کے ذمہ دار کے مطابق نئے"صدر اشرف غنی کی موجودگی میں پھانسیاں دیے جانے پر ایمنسٹی کو مایوسی ہوئی ہے۔" واضح رہے صدر اشرف غنی کے دور صدارت کے آغاز میں یہ واقعہ آئندہ کے حوالے سے رجحان نما سمجھا جا رہا ہے۔