.

ترکی اور شام کے درمیان بفر زون زیر غور نہیں، پینٹاگان

جان کیری بفرزون کی تجویز پر غور کی حمایت کر چکے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پینٹاگان نے ترکی اور شام کے درمیان بفر زون کے قیام کے لیے ترکی کی تجویز کے بارے میں کہا ہے کہ یہ اب زیر غور نہیں ہے بلکہ فوجی آپشن ہی زیر نظر ہے۔

پینٹا گان کے اس بیان سے پہلے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے بیانات میں کہا تھا بفرزون کی تجویز پر پوری طرح سے غور کیا جانا چاہیے۔ جان کیری نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا "بفر زون کی تجویز جائزہ لینے کے لائق ہے، اسے توجہ اور قریب سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔"

برطانوی وزیر خارجہ سے اتفاق کرتے ہوئے جان کیری نے کہا تھا "ہم اس کا جائزہ لینے کی سٹیج پر ہیں، ہمیں اس حوالے سے اپنے اتحادیوں سے بھی بات کرنا ہے کہ بفر زون سے مراد کیا ہے۔"

دریں اثناء فرانس کے صدراولاندے نے ترک صدر طیب ایردوآن کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے بفر زون کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

اس کے علاوہ شام اور ترکی کی سرحد پر قائم قصبے کوبانی پر داعش کی یلغار کے نتیجے میں اب تک اس علاقے سے تقریبا دو لاکھ کرد باشندے نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اس حوالے سے سب سے زیادہ دباو ترکی پر ہے کہ وہ ایک جانب پناہ گزینوں کا خیر مقدم کرے اور دوسری جانب کوبانی کو داعش کے قبضے سے بچانے کے لیے کردوں کو مدد دے۔

ترکی کے مختلف شہروں میں دو دنوں کے دوران اب تک اٹھارہ مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ترکی کردوں کو اسلحہ دے تاکہ داعش کو کوبانی سے دور رکھا جا سکے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے برطانوی وزیر خارجہ کے ہمراہ نیوز کانفرنس کے دوران رپورٹرز کو بتایا "ہماری کوشش ہے کہ داعش کو پورے شام میں کمزور بنایا جائے نہ کہ صرف کوبانی میں داعش کا مقابلہ کیا جائے۔" انہوں نے کہا "کوبانی کا سقوط روکنا امریکا کے سامنے ایک تذویراتی مقصد کے طور پر نہیں ہے۔"