.

ترکی پر حملے کی صورت، نیٹو کا دفاعی منصوبہ تیار

نیٹو دفاعی منصوبہ ترکی کے مطالبہ پر بنا ہے، ترک وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش مخالف جنگ اور عراق و شام میں انتہا پسندوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے پیش نظر نیٹو نے ہنگامی دفاعی منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ تاکہ داعش کی طرف سے ترکی کے لیے کسی بھی خطرے کا فوری تدارک ممکن ہو سکے۔

ترکی کے وزیر دفاع عصمت یلماز نے یہ بات بدھ کے روز بتائی ہے۔ نیٹو نے ترکی کے لیے کسی ہنگامی خطرے سے نمٹنے کے لیے یہ منصوبہ ترکی کے مطالبے پر بنایا ہے، ان کے بقول ترکی نے شام میں گڑبڑ شروع ہونے کے ساتھ ہی نیٹو سے اس سلسلے میں درخواست کر دی تھی۔

وزیر دفاع نے کہا "اگر ترکی کو کسی حملے کا سامنا ہوا تو مشترکہ دفاعی نظام فورا حرکت میں آجائے گا، اور یہ دفاعی بندو بست واشنگٹن میں منظور کیے گئے آرٹیکل 5 کے تحت ہو گا، جس میں کہا گیا ہے کہ ترکی کو شام سے کوئی خطرہ ہوا تو اس کا دفاع کیا جائے گا۔"

واضح رہے ترکی میں کرد مظاہرین کے تازہ ترین احتجاج کے دوران 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ مظاہرین کوبانی میں داعش کے خلاف لڑنے والے شامی کردوں کے لیے ترکی سے اسلحے کی مانگ کر رہے تھے۔

وزیر دفاع نے کہا "ترکی داعش کے حوالے سے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کوششیں کرنے پر یقین رکھتا ہے تاکہ کم سے کم نقصان ہو۔"

نیٹو کے نئے سربراہ نے بھی اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے "تیٹو ترکی کے لیے کسی بھی خطرے کی صورت میں اس کے دفاع کے لیے اقددامات کرے گا۔"

ترک پارلیمنٹ بھی عالمی اتحاد کی داعش مخالف کوششوں کا حصہ بننے کی منظوری دے چکا ہے، تاہم ترک صدر طیب ایردوآن داعش کے خلاف صرف فضائی کارروائیوں کو ناکافی قرار دیتے ہیں۔

شام سے نقل مکانی کر کے آنے والوں کو پناہ دینے میں بھی ترکی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان نقل مکانی کرنے والوں میں کرد باشندے بھی شامل ہیں۔