.

داعش مخالف کارروائیوں میں شمولیت، کینیڈین پارلیمنٹ نے منظوری دیدی

اپوزیشن جماعتوں نے اس جنگ کو دلدل قرار دے کر مخالفت کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کینیڈا کے قانون سازوں نے داعش کے خلاف عالمی اتحاد کا حصہ بننے کے حق میں ووٹ دے دیا ہے۔ پارلیمنٹ کی اس منظوری کے نتیجے میں کینیڈا بھی امریکی اتحادی کے طور پر داعش مخالف جنگ کا حصہ بن سکے گا۔

قدامت پسند وزیراعظم سٹیفن ہارپر کی زیر قیادت پارلیمنٹ کی اکثریت نے چھ ماہ کے لیے حکومت کو یہ حق دیا ہے کہ داعش کے خلاف کارروائیوں کا حصہ بن سکے۔

اپوزیشن کی دونوں جماعتوں نیو ڈیموکریٹس اور لبرلز نے چھ ماہ پر مشتمل اس جنگی مشن کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے مطابق کینیڈا کو مستقبل کی اس دلدل میں نہیں کودنا چاہیے۔

پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد کینیڈا کے چھ سو اہلکار اور چھ جنگی طیاروں کے علاوہ دیگر فوجی طیاروں کو مشرق وسطیٰ کے لیے روانگی کی اجازت ہو گی۔ تاہم وزیراعظم سٹیفن ہارپر نے زمینی لڑائی کا حصہ بننے کو مسترد کر دیا ہے۔

واضح رہے کینیڈا کے سپشل فورسز سے وابستہ 69 اہلکار پہلے سے عراق میں موجود ہیں جو اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ وائٹ ہاوس نے کینیڈین پارلیمنٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

امریکی ترجمان کے مطابق کینیڈا کے جاسوس اور جنگی طیاروں کے ساتھ ساتھ دوسرے تکنیکی اور جنگی امور سے متعلق فضائیہ کے شامل ہونے سے داعش کو تباہ و برباد کرنے میں مدد ملے گی۔

ترجمان نے مزید کہا "امریکا اور کینیڈا اس سے پہلے بھی مختلف مقامات پر مشترکہ طور پر جنگوں کا حصہ رہ چکے ہیں، دہشت گردی کے خلاف کینیڈا کے اس تازہ فیصلے کا بھی ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔"

امریکی ترجمان نے کہا "داعش نے اپنی جانب اس وقت توجہ مبذول کرائی تھی جب پچھلے اگست میں اس نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضہ کیا تھا۔"

خیال رہے مغربی حکومتیں خوف کا شکار ہیں کہ داعش سرحدوں کے باہر بھی کارروائیاں کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف مغربی ممالک کے شہری بھی داعش میں شامل ہو چکے ہیں۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے امریکی صدر براک اوباما نے پچھلے ماہ داعش کے خلاف اپنے منصوبے کا خاکہ پیش کیا تھا جس پر مغربی ممالک کے علاوہ عرب ممالک نے بھی لبیک کہا ہے۔