.

داعش کی مدد ؟جو بائیڈن کی سعودی عرب سے معافی

امریکی نائب صدر الزامی بیان پر ایک ہفتے میں تیسری بار معذرت کے طلب گار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نائب صدر جوزف بائیڈن نے سعودی عرب سے اپنے ایک حالیہ بیان پر معذرت کر لی ہے۔انھوں نے اس بیان میں الزام عاید کیا تھا کہ بعض خلیجی ممالک خطے میں انتہا پسند گروپوں کی حمایت کررہے ہیں۔انھیں اس غیرسنجیدہ بیان پر اس ہفتے کے دوران تیسری مرتبہ معذرت کرنا پڑی ہے۔

جوبائیڈن کی دفتر کی جانب سے منگل کی شب جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے سعودی وزیرخارجہ شہزادہ سعودالفیصل سے فون پر بات کی ہے اور سعودی عرب کا عراق اور شام میں دولت اسلامی (داعش) کے خلاف جنگ میں امداد پر شکریہ ادا کیا ہے۔

بیان کے مطابق ''نائب صدر نے سعودی وزیرخارجہ کا داعش کے خلاف بھرپور حمایت پر شکریہ ادا کیا ہے اور اپنے حالیہ بیان کی وضاحت کی ہے جس میں انھوں نے شام میں تنازعے کے ابتدائی مرحلے کے حوالے سے بات کی تھی۔دونوں نے اس امر سے اتفاق کیا ہے یہ ایشو اب بند ہوچکا ہے''۔

قبل ازیں امریکی نائب صدر نے ترکی اور متحدہ عرب امارات سے شام میں انتہا پسند گروپوں کی حمایت کے الزام پر معذرت کی تھی۔انھوں نے گذشتہ اتوار کو یو اے ای کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر اور ابوظہبی کے ولی عہد جنرل شیخ محمد بن زاید الناہیان سے فون پر بات کی تھی اور ان سے کہا تھا کہ ''امریکا انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحدہ عرب امارات کے تاریخی کردار اور اس ضمن میں اس کے دوٹوک مؤقف کو سراہتا ہے''۔

مسٹر جو بائیڈن نے یو اے ای اور دوسری خلیجی ریاستوں پر شام میں انتہا پسند گروپوں کی مالی مدد کا الزام عاید کیا تھا۔یو اے ای نے امریکا سے جوبائیڈن کے اس بیان کی باضابطہ وضاحت کا مطالبہ کیا تھا۔

سعودی عرب اور یو اے ای ان پانچ خلیجی عرب ممالک میں شامل ہیں جو شام میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف امریکا کی قیادت میں جنگ میں شریک ہیں۔دوسرے تین ممالک بحرین ،اردن اور قطر ہیں اور ان کے جنگی طیارے بھی داعش کے ٹھکانوں پرفضائی حملے کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ جوبائیڈن نے ترکی پر بھی شام میں داعش کو مسلح کرنے اور اس کی مالی معاونت کا الزام عاید کیا تھا۔انھوں نے گذشتہ جمعرات کو ہارورڈ یونیورسٹی میں ایک تقریر کے دوران ترکی اور عرب دنیا میں اپنے اتحادیوں کو شام میں داعش اور القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ سمیت سنی جنگجو گروپوں کی حمایت پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ان کے اس بیان پر ان ممالک نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا جس پر انھیں باری باری مذکورہ تین ممالک سے معافی مانگنا پڑی ہے۔