.

ایران کی فوجی تنصیب میں دھماکے کی اطلاع

پارچین کے نواح میں دھماکے کے بعد چھے عمارتیں تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے ایک سکیورٹی ادارے نے سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے اسی ہفتے ایران کے ایک فوجی کمپلیکس میں دھماکے یا آتش زدگی کا سراغ لگایا ہے۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا نے سوموار کو اطلاع دی تھی کہ دارالحکومت تہران کے مشرق میں واقع وزارت دفاع کے زیرانتظام اسلحہ اور گولہ بارود تیار کرنے والے ایک پلانٹ میں آتشزدگی کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔اس پلانٹ میں اتوار کی رات آگ لگی تھی۔

ایرانی حزب اختلاف کی ایک ویب سائٹ سہام نے بتایا ہے کہ تہران سے تیس کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع پارچین کے فوجی کمپلیس کے نزدیک ایک زوردار دھماکا ہوا تھا لیکن اس نے اس خبر کے ذریعے کا نہیں بتایا تھا کہ اسے کہاں سے یہ اطلاع ملی تھی۔

واشنگٹن میں قائم انسٹی ٹیوٹ برائے سائنس اور بین الاقوامی سلامتی (آئی ایس آئی ایس) کا کہنا ہے کہ اس نے خلائی تصاویر حاصل کی ہیں۔ان میں پارچین میں بظاہر چھے عمارتیں تباہ شدہ نظر آرہی ہیں یا ان کو نقصان پہنچا ہے۔

اس ادارے نے کہا ہے کہ ''اگست 2014ء میں پارچین کے جنوب میں دو عمارتیں موجود تھیں لیکن اب وہ موجود نہیں ہیں جبکہ تیسری عمارت بری طرح تباہ ہوگئی ہے اور مجموعی طور پر چھے عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں''۔

تاہم امریکی ادارے کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں نظر آنے والی تنصیب پارچین نہیں ہے۔اس مقام پر واقع جوہری تنصیب کے بارے میں اقوام متحدہ کے تحت جوہری ادارے کو شُبہ ہے کہ ایران نے وہاں ایک عشرے قبل جوہری تجربہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ ایران کی متعدد اسلحہ ساز فیکٹریاں اور فوجی اڈے تہران کے مشرق میں واقع ہیں۔ان میں پارچین کی جوہری تنصیب بھی شامل ہے۔ویانا میں قائم جوہری توانائی کا عالمی ادارہ (آئی اے ای اے) ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مغربی ممالک کی تشویش دور کرنے کے لیے اسی تنصیب کا معائنہ کرنا چاہتا ہے مگر ایران نے 2005ء کے بعد سے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو پارچین تک رسائی نہیں دی ہے۔